ناموافق حالات
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ اپنے ماحول میں عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مکہ اور مدینہ کے مسلمان اس سے کہیں زیادہ عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا تھے۔ اگر عدم تحفظ کوئی ” برائی “ ہوتی تو یقیناً اللہ کا رسول اور اس کے اصحاب کہیں زیادہ اس کے مستحق تھے کہ اللہ انھیں اس برائی سے دور رکھے۔ مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ ان کو مسلسل عدم تحفظ کی صورت حال میں رکھا۔ ان کو اپنی زندگی میں کبھی چین اور آسودگی نہ مل سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے جس ڈھنگ پر بنایا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں دبنے سے ابھار پیدا ہو۔ مشکلوں کے مدرسہ میں انسان کی اعلیٰ تربیت ہو۔ غیر محفوظ حالات کے اندر مستعدی کا ظہور ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انھیں لوگوں نے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں جو حالات کے دباؤ میں مبتلا تھے۔ قدرت کا یہی قانون افراد کے لیے ہے اور یہی قوموں کے لیے۔ بڑا کام ولیم بلیک ( William Blake ) نے کہا ہے کہ عظیم کام اس وقت ہوتے ہیں جب کہ انسان اور پہاڑ ملتے ہیں۔ کوئی عظیم کام سڑک پر دھکم دھکا کرنے سے نہیں ہوتا: Great things are done when men and mountains meet. This is not done by Jostling in the street. ولیم بلیک کی یہ بات صد فی صد درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے کام کے لیے بڑا عمل درکار ہوتا ہے۔ پہاڑوں کی کٹھن چڑھائی کے بعد آدمی چوٹی پر پہنچتا ہے۔ سڑکوں پر شور وغل کرنے یا جلسوں میں الفاظ کے دریا بہانے سے کوئی بڑا مقصد کبھی حاصل نہیں ہوتا۔ حقیقی معنوں میں کوئی بڑا انجام پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ حالات کو انتہائی گہرائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader