Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

صلاحیت کو بروئے کار لانے کا اپنے کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش میں لگ جانا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ حالات نے جہاں آپ کی کہانی ختم کر دینی چاہی تھی وہیں سے آپ کی زندگی کے ایک نئے شان دار باب کا آغاز ہو جائے۔ قربانی درخت کیا ہے۔ ایک بیج کی قربانی۔ ایک بیج جب اپنے کو فنا کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے تو اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک سرسبز و شاداب درخت زمین پر کھڑا ہو۔ اینٹوں سے اگر آپ پوچھیں کہ مکان کس طرح بنتا ہے تو وہ زبان حال سے یہ کہیں گی کہ کچھ اینٹیں جب اس کے لیے تیار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے زمین میں دفن کر دیں، اس کے بعد وہ چیز ابھرتی ہے جس کو مکان کہتے ہیں۔ یہی حال انسانی زندگی کی تعمیر کا ہے۔ انسانیت کے مستقبل کی تعمیر اس وقت ممکن ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے کو بے مستقبل دیکھنے پر راضی ہو جائیں۔ ملت کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ جانتے بوجھتے اپنے کو بے ترقی کر لیں ۔ قربانی کے ذریعہ تعمیر، یہ قدرت کا ایک عالمگیر قانون ہے اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ قدرت کا یہی اصول مادی دنیا کے لیے بھی ہے اور قدرت کا یہی اصول انسانی دنیا کے لیے بھی۔ عمارت میں ایک اس کا گنبد ہوتا ہے، اور ایک اس کی بنیاد۔ گنبد ہر ایک کو دکھائی دیتا ہے مگر بنیاد کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔ کیوں کہ وہ زمین کے اندر دفن رہتی ہے۔ مگر یہی نہ دکھائی دینے والی بنیاد ہے جس پر پوری عمارت اور اس کا گنبد کھڑا ہوتا ہے۔ قومی تعمیر کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قربانی یہ ہے کہ آدمی قومی تعمیر میں اس کی بنیاد بننے پر راضی ہو جائے۔ قربانی یہ نہیں ہے کہ آدمی جوش میں آ کر لڑ جائے اور اپنی جان دے دے۔ قربانی یہ ہے کہ آدمی ایک نتیجہ خیز عمل کے غیر مشہور حصہ میں اپنے کو دفن کر دے۔ وہ ایسے کام میں اپنی کوشش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page