Urdu book · راز حیات

ناموافق حالات

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

طوفان آیا مگر اس طوفان میں اس علاقہ کے صرف آدھے ملین لوگوں نے اپنا مکان چھوڑا۔ 50 فی صد سے زیادہ آبادی اپنے مکانوں میں جمی رہی ۔ جب کہ اس طوفان کے آنے کی اطلاع چاردن پہلے دی جاچکی تھی۔ 1971 میں کیلیفورنیا کے زلزلہ میں ایک بہت بڑا ڈیم کمزور ہو گیا جس سے 70 ہزار آبادی کے لیے سنگین خطرہ لاحق ہو گیا۔ مگر ایسے نازک حالات میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد صرف 7 فی صد تھی۔ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ حادثات کا شکار ہو جانے کے بعد بھی اکثر لوگ پرامید رہتے ہیں۔ ٹیکساس کے دوشہروں میں ہولناک طوفان سے تباہ ہونے والے لوگوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا۔ 10 فی صد سے بھی کم لوگوں نے مستقبل کے بارے میں کسی اندیشہ کا اظہار کیا۔ بقیہ تمام لوگ تباہی کے باوجو د اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید تھے۔ حوادث کے بارے میں اپنی لمبی تحقیق کا خلاصہ مذکورہ ادارہ کی رپورٹ میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے ۔ واقعات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان مصیبتوں کے مقابلہ میں حیرت انگیز طور پر قابو یافتہ اور لچکدار واقع ہوٹے ہیں۔ مصائب کے وقت انسان جس رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں ، اس کو دہشت اور گھبراہٹ کے بجائے ہیر وازم کے لفظ سے تعبیر کرنا زیادہ صحیح ہوگا: انسان کو اس کے بنانے والے نے حیرت انگیز طور پر بے شمار صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں ۔ اسی میں سے ایک صلاحیت یہ ہے کہ عین بربادی کے کھنڈر میں کھڑا ہو کر کبھی وہ ختم نہیں ہوتا بلکہ اپنی نئی تعمیر کا منصوبہ سوچتا ہے اور بہت جلد اپنے نقصانات کی تلافی کر لیتا ہے۔ انسان کے اندر یہ فطری امکان ہم کو بہت بڑا سبق دے رہا ہے۔ کوئی فرد یا قوم اگر کسی حادثہ کا شکار ہو جائے تو اس کو ماتم اور شکایت میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ خدا کی دی ہوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page