راز حیات
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
کی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کا دن ہے۔ اس دن مرد اور ایک عورت اپنے کو گاڑھے اقرار (النساء، 4:21) میں باندھتے ہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ نکاح کی تقریب سادہ ہو، وہ فضول نمائشوں سے بالکل پاک ہو۔ اور اگر کسی کو خرچ ہی کرنا ہے تو اس خرچ کی ایک اچھی صورت وہ ہے جس کی مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ اگر ہمارے درمیان اس قسم کا رواج پڑ جائے تو شادی قومی تعمیر کے پروگرام کا ایک اہم جز ء بن جائے۔ ہر خاندان میں نہایت خاموشی کے ساتھ ترقی کا سلسلہ چل پڑے۔ قوم کے اربوں روپے جو ہر سال چند دن کے تماشوں میں ضائع ہو جاتے ہیں ، قوم کی تعمیر کا ایک مستحکم ذریعہ بن جائیں۔ وہ قومی اقتصادیات کے منصوبہ کا جز ء بن جائیں۔ اور قوم اقتصادی حیثیت سے اوپر اٹھ جائے تو یہ صرف ایک اقتصادی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ بے شمار پہلوؤں سے وہ قوم کی ترقی کے لیے مفید ہوگا یہ ایک مزید فائدہ ہے مگر مزید خرچ کے بغیر۔ خاموش تعمیر سوامی ویویکانند (1902-1863) کو سچائی کی تلاش تھی۔ وہ سفر کرتے ہوئے راس کماری کے ساحل پر پہنچے ۔ یہاں سمندر کے اندر تقریباً ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ایک چٹان ہے۔ سوامی ویویکانند سمندر میں کود پڑے اور تیر کر چٹان کے اوپر پہنچے ۔ یہاں انھوں نے دھیان گیان کیا اور اس کے بعد واپس آکر ہندو دھرم کے پر چار میں لگ گئے۔ آزادی کے بعد اس چٹان پر ” ویویکانند کیندر “ قائم کیا گیا ہے۔ تقریباً دو کروڑ روپے کے خرچ سے ایک بہت بڑا سنٹر بنایا گیا ہے جو 1970 میں مکمل ہوا ہے۔ اس کا خاص مقصد ہے انسان بنانا (Man making)۔ افراد کار کی فراہمی کے لیے اس سنٹر نے اپیل کی تھی، اس کے نتیجہ میں درجنوں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں اس کے لیے وقف کر دیں۔ وہ اس مشن میں تاحیات کارکن (Life worker) بن گئے ۔ (ٹائمز آف انڈیا 27 جنوری 1984)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader