Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

انھیں میں سے ایک ڈاکٹر ایچ آر نگیندر ہیں۔ وہ امریکا میں خلائی پرواز مرکز (space Flight Centre) میں اعلیٰ عہدے پر تھے۔ وہ اس کو چھوڑ کر اب ویویکا نند کیندر (کنیا کماری) میں معمولی زندگی گزار رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں میں اپنے آپ کو بے جگہ محسوس نہیں کرتا۔ ایک سائنس دان کا کام سچائی کی تلاش ہے۔ اور میری تلاش بدستور جاری ہے۔ پہلے یہ میکانیکل انجینئرنگ کے میدان میں تھی، اب یہ انسانی انجینئرنگ کے میدان میں ہے : Earlier it was in mechanical engineering, now it is in human engineering. ویویکا نند سنٹر اس وقت خاص طور پر چار میدانوں میں کام کر رہا ہے— تعلیم، دیہی ترقی، یوگا ریسرچ اور رسائل اور کتابوں کی اشاعت۔ سینکڑوں لوگ اپنے اعلیٰ عہدے اور آرام کی زندگی کو چھوڑ کر اس کے پروگرام کے تحت مختلف ریاستوں میں خاموشی کے ساتھ جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر نگیندر کے الفاظ ہیں، یہ ان کے لیے ایک بھر پور زندگی ہے، ان کو پورا اطمینان ہے کہ وہ ایک کام میں لگے ہوئے ہیں : It is indeed a rich life—rich in job satisfaction. وہی قوم زندہ قوم ہے جس میں اعلیٰ صلاحیت کے لوگ اس قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ قربانی 1962 کا واقعہ ہے۔ مسٹر سر یش ایچ کامدار کی عمر اس وقت 29 سال تھی۔ وہ کلکتہ کے میڈیکل کالج ہسپتال میں اپنے ایک بیمار عزیز کو دیکھنے کے لیے گئے۔ وہاں اس وقت ایک مریض لایا گیا۔ اس کا آپریشن ضروری تھا اور اس کے لیے فوری طور پر خون (Blood transfusion) کی ضرورت تھی۔ یہ اس آدمی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ مسٹر کامدار کا بلڈ گروپ اے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page