قربانی
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
(A-Rh Positive) تھا۔ اُن کو مریض پر ترس آیا۔ اُنھوں نے رضا کارانہ طور پر خون کی پیش کش کر دی۔ ایک زندگی بچالی گئی۔ مسٹر کامدار کی عمر اب 53 سال ہو چکی ہے کلکتہ کے مذکورہ تجربہ کے بعد اُنھوں نے خون دینے کو اپنا مستقل مسلک بنالیا۔ پچھلے 24 سال کے اندر وہ ایک سو بار رضا کارانہ طور پر خون دے چکے ہیں۔ انھیں ریڈکراس سوسائٹی نے اعلیٰ امتیاز کے تمغہ عطا کیے ہیں۔ (ٹائمز آف انڈیا، 2 دسمبر 1985) دنیا میں ایسے لوگ بہت ہیں جو فوری جوش سے بھڑک اٹھیں اور لڈ کر اپنا خون دے دیں۔ مگر ایسے لوگ بے حد کامیاب ہیں جو سوچے سمجھے ذہن کے تحت مستقل خون دیں اور زندگی کے آخری لمححات تک دیتے رہیں۔ یہ دوسرے لوگ بظاہر چھوٹا کام کرنے والے لوگ نظر آتے ہیں۔ مگر یہی لوگ ہیں جو دنیا میں بڑا کام کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی انفرادی قربانیوں کے ذریعہ پوری قوم کو آگے لے جاتے ہیں۔ پہلی قسم کی قربانی اگر لیڈر بناتی ہے تو دوسری قسم کی قربانی قوم تیار کرتی ہے۔ پہلی قربانی اگر حال کی تعمیر ہے تو دوسری قربانی مستقبل کی تعمیر۔ ایک بڑا مکان اچانک نہیں بنتا۔ سالہا سال تک ایک ایک اینٹ جوڑی جاتی ہے، اس کے بعد وہ مجموعہ تیار ہوتا ہے جس کو مکان کہتے ہیں۔ ایک تالاب اچانک نہیں بھر جاتا۔ بارش ایک عرصہ تک بوند بوند پانی اس میں پہنچاتی ہے تب ایک بھرا ہوا تالاب وجود میں آتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی معاملات کا ہے۔ انسانی زندگی میں کوئی بڑا واقعہ اس وقت ظہور میں آتا ہے جب کہ بہت سے لوگ اس کے لیے تیار ہوں کہ وہ اپنی تھوڑی کوششوں کو لمبی مدت تک جمع کریں گے۔ انسانی کامیابی صابرانہ عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ وقتی اقدام کا نتیجہ۔ کامیابی کی قیمت ایک طالب علم کے سر پرست کالج کے پرنسپل سے ملے۔ ”آپ لوگوں نے جو تعلیمی نصاب بنایا ہے وہ بہت لمبا ہے۔ طالب علم کی عمر کا ایک بڑا حصہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader