حالات کی رعایت
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
حالات کی رعایت 19 جولائی 1981 کو دہلی ۔ احمد آباد میل حسب معمول اپنے وقت پر روانہ ہوئی۔ مگر مہسانہ اسٹیشن پر وہ چالیس منٹ لیٹ ہوگئی۔ ٹرین جب مہسانہ سے آگے بڑھی تو ڈرائیور نے اس کو عام رفتار سے زیادہ تیز دوڑانا شروع کیا تا کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر احمد آباد پہنچ جائے۔ ٹرین ڈنگروا سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر تھی کہ ڈرائیور نے دیکھا کہ آگے کی پٹری میں کچھ فش پلیٹیں غائب ہیں۔ اس نے فوری طور پر بریک لگایا کہ ٹرین کو روک کر حادثہ سے بچائے ۔ مگر تیز دوڑتی ہوئی ٹرین اچانک بریک لگنے سے بے قابو ہوگئی۔ انجن اور اس کے ساتھ لگی ہوئی 12 بوگیاں پٹری سے اچھل پڑیں اور پوری گاڑی اپنی پٹری چھوڑ کر کنارے کے کھڈ میں جاگری۔ کافی لوگ مرگئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ حالات کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی کی گاڑی تیز دوڑانا شروع کر دیں ۔ کیونکہ اس دنیا میں صرف آپ ہی نہیں ہیں بلکہ دوسرے بھی ہیں۔ یہاں صرف آپ بر سر عمل نہیں ہیں بلکہ دوسرے بھی بر سر عمل ہیں۔ ایسی ایک دنیا میں اسی شخص یا قوم کا سفر کامیاب ہو سکتا ہے جو خارجی حالات کو اچھی طرح سمجھے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے اپنی گاڑی کو آگے بڑھائے۔ اگر یہ حکمت نہ برتی جائے تو راستہ میں کوئی بھی غیر موافق واقعہ پیش آ کر ہمارے سارے منصوبہ کو خاک میں ملا دے گا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بہت سے بڑے بڑے اقدامات کیے اور سب ناکام ہوتے چلے گئے۔ اس ناکامی کی توجیہہ ہر ایک کے پاس صرف ایک ہے: ” فلاں کی سازش نے ان کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا“، مگر یہ عذر صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ مذکورہ اقدام میں حالات کی پوری رعایت شامل نہ تھی۔ خوش فہمی کے تحت اپنی گاڑی دوڑا دی گئی اور اس بات کا اندازہ نہیں کیا گیا کہ آگے کی پٹری پر ایک دشمن موجود ہے جو ”فش پلیٹ“ نکال کر ہماری گاڑی کو الٹنے کا خفیہ منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader