Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

گاڑی“ خواہ مکمل طور پر آپ کی ہو مگر جس ”سڑک“ پر آپ کو اپنی گاڑی دوڑانی ہے وہ مکمل طور پر آپ کی نہیں۔ یہ حقیقت خواہ کسی کے لیے کتنی ہی تلخ ہو مگر بہرحال وہ ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اس کو نظر انداز کر کے کوئی شخص اس دنیا میں کامیاب ہو سکے۔ جو لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی کی گاڑی دنیا کی سڑک پر دوڑائیں ان کے حصے میں کبھی منزل نہیں آتی۔ واحد چیز جو اس دنیا میں ان کے لیے مقدر ہے وہ یہ کہ وہ اپنے ہر اقدام کے بعد ناکام ہوں اور پھر کسی نہ کسی ”سازش“ کا انکشاف کر کے اس کے خلاف فریاد کرتے رہیں۔ پہلے شعور پیدا کیجئے مسجد کا مؤذن فجر سے کچھ پہلے اٹھا۔ وہ کسی ضرورت سے مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کھول رہا ہے۔ چوں کہ ابھی فضا میں اندھیرا چھایا ہوا تھا اور اتنے سویرے دکان کھولنا ایک غیر معمولی بات تھی، وہ ٹھہر کر دیکھنے لگا۔ ”یہ آدمی اندھیرے میں دکان کے اندر داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کام کرے گا“ اچانک یہ سوال اس کے ذہن میں آیا۔ ایک لمحہ سوچنے کے بعد اس کے دل نے کہا کہ یہ شخص سب سے پہلے دکان کی لائٹ جلائے گا۔ کیوں کہ جب تک دکان کے اندر اندھیرا ہے وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اب وہ اپنے اندازہ کی تصدیق یا تردید جاننے کے لیے وہاں ٹھہر کر دکان دار کو دیکھنے لگا۔ مؤذن کا اندازہ صحیح نکلا۔ دکان کا دروازہ کھولتے ہی دکان دار کا ہاتھ سب سے پہلے بجلی کے بٹن پر پہنچا۔ معاً بعد دکان کے اندر روشنی ہو گئی۔ اب دکان دار اس کے اندر داخل ہو کر اپنا کام کرنے لگا۔ اسی مثال سے ہم دین و ملت کے معاملہ کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ دینی یا ملی کام کرنے کے لیے بھی سب سے پہلے ”روشنی“ جلانے کی ضرورت ہے۔ یعنی شعور کی بیداری۔ اندھیرے مکان یا دکان کو اجالے میں لانے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ملت کے اندر کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page