Urdu book · راز حیات

کچھ اور کرنا ہے

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد ایک حادثہ ہوا جس نے اس کی زندگی کے رخ کو بدل دیا۔ اس نے اپنی ناکام زندگی کو ختم کرنے کے لیے ایک روز بھرا ہوا پستول لیا اور اپنے سر کے اوپر رکھ کر اس کی لبلی دبا دی۔ مگر اس کو سخت حیرت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اس کا پستول نہیں چلا ہے۔ اس نے پستول کھول کر دیکھا تو وہ گولیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اپنے ارادہ کی حد تک اپنے کو ہلاک کر لینے کے باوجود وہ بدستور زندہ حالت میں موجود تھا۔ یہ بڑا عجیب واقعہ تھا۔ رابرٹ کلائیبو اس کو دیکھ کر چلا اٹھا’’خدا نے یقیناً تم کو کسی اہم کام کے لیے محفوظ رکھا ہے۔‘‘ اب اس نے کلرکی چھوڑ دی اور انگریزی فوج میں بھرتی ہو گیا۔ اس زمانہ میں انگریز اور فرانسیسی دونوں بیک وقت ہندوستان میں اپنا قدم جمانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں رابرٹ کلائیو نے غیر معمولی صلاحیت اور بہادری کا ثبوت دیا۔ اس کے بعد اس نے ترقی کی اور اس کو انگریزی فوج میں کمانڈر انچیف کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ جس کلائیو نے مایوس ہو کر خود اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر پستول چلا لیا تھا، اس کو اس کے بعد یہ مقام ملا کہ برطانیہ کی تاریخ میں اس کو ہندوستان کے اولین فاتح کی حیثیت سے لکھا جائے۔ ہم میں سے ہر شخص کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ کسی شدید خطرہ میں پڑنے کے باوجود معجزاتی طور پر اس سے بچ جاتا ہے۔ تاہم بہت کم لوگ ہیں جو رابرٹ کلائیو کی طرح اس سے سبق لیتے ہوں۔ جو اس طرح کے واقعات میں قدرت کا یہ اشارہ پڑھ لیتے ہوں— ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، ابھی دنیا میں تم کو اپنے حصہ کا کام کرنا باقی ہے۔ ہر آدمی کو دنیا میں کام کرنے کی ایک مدت اور کچھ مواقع دیئے گئے ہیں۔ یہ مدت اور مواقع اس سے اس وقت تک نہیں چھنتے جب تک خدا کا لکھا پورا نہ ہو جائے۔ اگر رات کے بعد خدا آپ کے اوپر صبح طلوع کرے تو سمجھ لیجیے کہ خدا کے نزدیک ابھی آپ کے عمل کے کچھ دن باقی ہیں۔ اگر آپ حادثات کی اس دنیا میں اپنی زندگی کو بچانے میں کامیاب ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے منصوبہ کے مطابق آپ کو کچھ اور کرنا ہے جو ابھی آپ نے نہیں کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page