Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

پاس رہ گئے ہیں وہ مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ میں رسمی ملاقاتوں میں اپنا وقت صرف کر دوں: The life span at my disposal does not leave any time for symbolic encounters. سالز نینٹسین کے سامنے ایک محدود مقصد تھا۔ یعنی روسی عوام کی دکھ بھری زندگی کو ناول کے انداز میں پیش کرنا۔ اس مقصد نے اس کے اوقات پر اتنا قبضہ کر لیا کہ اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ وہ صدرامریکا کے دعوت نامہ کو رد کر دے۔ آدمی کے سامنے اگر کوئی واضح مقصد ہو تو اس کا یہی حال ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی کی زندگی مقصد سے خالی ہو جائے تو اس کی نظر میں اپنے وقت کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ وہ اپنا اندازہ خود اپنی رائے سے کرنے کے بجائے دوسروں کی رائے سے کرنے لگتا ہے۔ وہ رسمی جلسوں اور تقریبات میں رونق کا سامان بنتا رہتا ہے۔ وہ اپنے لیے جینے کے بجائے دوسروں کے لیے جینے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی عمر پوری ہو جاتی ہے۔ بظاہر مصروفیات سے بھری ہوئی ایک زندگی اس طرح اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے کہ اس کے پاس ایک خالی زندگی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔ کچھ اور کرنا ہے اٹھاویں صدی میں جن انگریزوں کی سرفروشی نے ہندوستان کو برطانیہ کی نو آبادی بنایا ان میں لارڈ رابرٹ کلائیو (1774- 1725) کا نام سر فہرست ہے۔ 1743 میں جبکہ اس کی عمر صرف 18 سال تھی وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کلرک کی حیثیت سے مدراس آیا۔ اس وقت اس کی تنخواہ صرف پانچ پونڈ سالانہ تھی۔ یہ رقم اس کے خرچ کے لیے بہت ناکافی تھی۔ چنانچہ وہ قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبا رہتا اور مایوسانہ جھنجھلاہٹ کے تحت اپنے ساتھیوں اور افسروں سے لڑتا جھگڑتا رہتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page