Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ آدمی باتوں کی تحقیق نہیں کرتا۔ اس کے باوجود وہ اس کو اپنا فطری حق سمجھتا ہے کہ وہ ہر موضوع پر بے تکان بولے، خواہ اس کے بارے میں اسے کچھ بھی واقفیت نہ ہو۔ کہنے سے پہلے جانیے ۔ اظہارِ رائے سے پہلے تحقیق کیجئے ۔ واقفیت کے بغیر بولنا اگر جہالت ہے تو تحقیق کے بغیر رائے ظاہر کرنا شرارت۔ اور دونوں یکساں طور پر برائی ہیں۔ ان میں اگر فرق ہے تو درجہ کا ہے، نہ کہ نوعیت کا۔ خوشی کا راز مارگریٹ لی رنیک (Margaret Lee Runbeck) کا قول ہے کہ۔ خوشی کوئی منزل نہیں جہاں آدمی پہنچے، بلکہ خوشی سفر کرنے کا ایک طریقہ ہے: Happiness is not a station you arrive at, but a manner of travelling. ہر آدمی خوشی کا طالب ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں کسی کو خوشی نہیں ملتی۔ یہ دنیا اس لیے بنائی ہی نہیں گئی کہ یہاں آدمی اپنی خوشیوں کا گھر تعمیر کر سکے۔ جو شخص خوشی کو اپنی منزل سمجھے وہ کبھی خوشی کو نہیں پا سکتا۔ خوشی صرف اس کے لیے ہے جو خوشی کے بغیر خوش رہنا سیکھ جائے۔ اگر آدمی یہ جان لے کہ اس دنیا میں غم ناگزیر ہے تو وہ غم کے ساتھ رہنا سیکھ جائے گا۔ اس کو نقصان لاحق ہو گا تو وہ فریاد و ماتم نہیں کرے گا بلکہ اس سے اپنے لیے سبق کی غذا حاصل کرلے گا۔ اس کی امیدیں پوری نہ ہوں گی تو وہ مایوسی میں مبتلا نہیں ہوگا۔ اس کا یہ شعور اس کے لیے سہارا بن جائے گا کہ اس دنیا میں کسی کی بھی امیدیں پوری نہیں ہوتیں، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا کوئی معمولی آدمی۔ خوشی اور کامیابی سے اگر آدمی کو کچھ ملتا ہے تو غم اور ناکامی سے بھی آدمی کو بہت کچھ ملتا ہے۔ غم اور ناکامی کے تجربات آدمی کو سنجیدہ بناتے ہیں۔ وہ اس کی سوچ میں گہرائی پیدا کر دیتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page