راز حیات
Urdu book, p. 252
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ ان کے ذریعہ سے وہ نئے نئے سبق سیکھتا ہے۔ غم اور ناکامی کے تجربات آدمی کے پورے وجود کو بدل کر ایک نیا آدمی بنا دیتے ہیں۔ اگر دنیا میں صرف خوشی اور کامیابی ہوتی تو دنیا سطحی اور بے حس انسانوں کا قبرستان بن جاتی۔ یہ دراصل غم اور ناکامی ہی ہے جس کی وجہ سے دنیا کبھی زندہ انسانوں سے خالی نہیں ہوتی۔ زندگی کی تلخیاں آدمی کی زندگی کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہیں جو سونے چاندی کے لیے تپانے کی حیثیت ہے۔ تپانے کا عمل سونے چاندی کو نکھارتا ہے۔ اسی طرح تلخ تجربات آدمی کی اصلاح کرتے ہیں۔ وہ بے چمک انسان کو چمک دار انسان بنا دیتے ہیں۔ بُرائی کی جڑ ولیم لا (1761_1686) ایک مشہور انگریز مصنف ہے۔ اس نے اخلاقیات کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے— بُرائی جب بھی شروع ہوتی ہے غرور سے شروع ہوتی ہے۔ بُرائی کا جب بھی خاتمہ ہوتا ہے تو انکساری کے ذریعہ ہوتا ہے: Evil can have no beginning, but from pride, nor any end but from humility (William Law). کہنے والے نے یہ بات اخلاقی اعتبار سے کہی ہے۔ مگر آسمانی شریعت کی بات بھی یہی ہے۔ خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم شرک اور غرور ہے۔ ہر چیز کی معافی ہو سکتی ہے مگر شرک اور غرور کی معافی نہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان کے مقابلہ میں جو بھی ظلم یا فساد کرتا ہے ان سب کی جڑ میں کھلایا چھپا ہوا غرور شامل رہتا ہے۔ غرور کی وجہ سے آدمی حق کا اعتراف نہیں کرتا۔ کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ حق کا اعتراف کرنے سے ان کی بُرائی ختم ہو جائے گی۔ وہ بھول جاتا ہے کہ حق کو نہ مان کر وہ حق کے مقابلہ میں خود اپنی ذات کو برتر قرار دے رہا ہے۔ حالاں کہ اس دنیا میں سب سے بڑی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader