بے کچھ سے سب کچھ تک
Urdu book, p. 265
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص نے بازار میں چھوٹی سی دکان کھولی۔ وہ کپڑا دھونے کا صابن اور کچھ اور چیزیں بیچتا تھا۔ اس کی دکان پر بہت جلد بھیڑ لگنے لگی۔ دن کے کسی وقت بھی اس کی دکان کا بکوں سے خالی نہ رہتی۔ اس کا راز یہ تھا کہ وہ دو روپے کا صابن پونے دو روپے میں بیچتا تھا۔ آدمی اگر چار صابن خریدے تو عام نرخ کے لحاظ سے اس کا ایک روپیہ بچ جاتا تھا۔ ایک آدمی نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پونے دو روپے اس صابن کی تھوک قیمت ہے۔ دکان دار کو وہ صابن کارخانہ سے پونے دو روپے میں ملتا تھا اور اسی دام پر وہ اس کو گاہ بکوں کے ہاتھ فروخت کردیتا تھا۔ اس آدمی نے دکان دار سے پوچھا کہ تم دام کے دام صابن بیچتے ہو۔ پھر تم کو اس میں کیا فائدہ ملتا ہے۔ دکان دار نے کہا کہ میری دکان پر اتنا صابن بکتا ہے کہ اس کی 25 پیٹیاں دن بھر میں خالی ہو جاتی ہیں۔ میں ان خالی پیٹیوں کو ایک روپیہ فی پیٹی کے حساب سے 25 روپے میں بیچ دیتا ہوں ، اس طرح ہر روز میرے 25 روپے بچ جاتے۔ اس کے علاوہ جب آدمی میرے یہاں سے صابن لیتا ہے تو اکثر وہ کچھ نہ کچھ دوسری چیزیں بھی خرید لیتا ہے، یہ فائدہ اس کے علاوہ ہے۔ یہ دکان دار دھیرے دھیرے ترقی کرتا رہا۔ اس کا نفع پہلے 25 روپے روز تھا۔ پھر 50 روپے روز ہوا۔ پھر وہ سو روپے اور دو سو روپے روز تک پہنچا۔ آدمی نے پیسہ بچا کر اپنے بغل کی دکان بھی حاصل کر لی اور دونوں کو ملا کر ایک کافی بڑی دکان بنالی۔ اب اس کا کاروبار اور بڑھا۔ یہاں تک کہ دس سال میں وہ شہر کا ایک بڑا دکان دار بن گیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے امکانات کس قدر زیادہ ہیں۔ حتیٰ کہ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ آدمی آج ”بے نفع‘‘ کی تجارت شروع کرے اور کل وہ زبردست نفع والا تاجر بن جائے۔ آج وہ اپنے آپ کو ”بے کچھ‘‘ پر راضی کرلے اور کل وہی وہ شخص ہو جو ”سب کچھ‘‘ کا مالک بنا ہوا ہو۔ مگر دنیا کے ان بے حساب امکانات کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی لازمی شرط صبر اور عقل مندی ہے۔ جس کے پاس صرف بے صبری اور نادانی کا سرمایہ ہو اس کے لیے دنیا کے بازار میں کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader