راز حیات
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
نے سمجھا کہ گ ہک صاف نوٹ کو پسند کرتا ہے۔ اس نے گ ہک کی اس نفسیات کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے یہ اصول بنایا کہ جب کوئی گ ہک اس سے سامان خریدے گا اور قیمت ادا کرنے کے لیے بڑا نوٹ دے گا تو وہ حساب کرتے وقت ہمیشہ گ ہک کو نئے اور صاف نوٹ لوٹائے گا۔ دکان دار کے بکس میں ہر طرح کے نوٹ ہوتے۔ مگر جب وہ گ ہک کو دینے کے لیے اپنا غلہ (cash box) کھولتا تو پرانے اور پھٹے ہوئے نوٹوں کو الگ کرتا جاتا اور نئے نوٹ چھانٹ کر گ ہک کو دیتا۔ نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیے اس نے یہ کیا کہ اپنے تمام پرانے نوٹ جمع کر کے اپنے بینک کو دے دیتا اور اس کے بدلے بینک سے چھوٹے نئے نوٹ حاصل کر لیتا۔ وہ نئے نوٹوں کو اپنے غلہ کے پرانے نوٹوں میں ملا دیتا تا کہ گ ہک کے سامنے دونوں قسم کے نوٹ ہوں اور وہ دیکھے کہ اس کا دکان دار غلہ کے خراب نوٹوں کو الگ کرتا جا رہا ہے اور صاف نوٹوں کو چھانٹ چھانٹ کر اسے دے رہا ہے۔ دکان دار کی یہ تدبیر بظاہر معمولی اور بے قیمت تھی۔ مگر اس نے گ ہکوں کو بے حد متاثر کیا۔ وہ سمجھے کہ ان کا دکان دار ان کا بہت خیال کرتا ہے۔ دھیرے دھیرے اس نے اس معمولی تدبیر سے گ ہکوں کے دل جیت لیے۔ اس کی دکان اتنی کامیاب ہو گئی کہ ہر وقت اس کے یہاں بھیڑ لگی رہتی۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ اپنے اندر کوئی امتیازی خصوصیت پیدا کریں، آپ یہ ثابت کریں کہ آپ لوگوں کے ہمدرد ہیں۔ یہ کام کسی معمولی تدبیر سے بھی ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ محض چند الفاظ بولنے یا پرانے نوٹ کے بدلے نیا نوٹ دینے سے بھی۔ بے کچھ سے سب کچھ تک جو شخص کم فائدہ پر قناعت کرے گا وہ بڑے فائدہ کا مالک بنے گا یہ ایک ایسا بے خطا اصول ہے جو اپنے اندر ابدی اہمیت رکھتا ہے۔ آپ جس معاملہ میں بھی اس کو آزمائیں گے یقینی طور پر آپ کامیاب رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader