Urdu book · راز حیات

خصوصی صلاحیت

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ یہ مزاج اس کو اس قابل بناتا ہے کہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں وہ صرف معیاری صورت کو اپنے سامنے رکھے ۔ اور اپنی ڈیوٹی کو پوری طرح انجام دے کر خوشی حاصل کرے۔ یہ مزاج آدمی کے خود اپنے اندر ایک ایسا محرک رکھ دیتا ہے جو آدمی کو اکساتا رہتا ہے کہ وہ صرف خیر اعلیٰ پر ٹھہرے، اس سے کم کسی چیز پر اپنے کو راضی نہ ہونے دے۔ خود ساز، تاریخ ساز آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک خود ساز، اور دوسرے تاریخ ساز۔ خود ساز آدمی کی توجہات کا مرکز اس کی اپنی ذات ہوتی ہے۔ اور تاریخ ساز آدمی کی توجہات کا مرکز وسیع تر انسانیت۔ خود ساز آدمی کی سوچ اس کی ذاتی مصلحتوں کے گرد بنتی ہے۔ اس کے جذبات وہاں بھڑکتے ہیں جہاں اس کے ذاتی فائدہ کا کوئی معاملہ ہو۔ اور جس معاملہ کا تعلق اس کے ذاتی فائدے سے نہ ہو وہاں اس کے جذبات میں کوئی گرمی پیدا نہیں ہوتی۔ خود ساز آدمی اپنے ذاتی نفع کے لیے ہر دوسری چیز کو قربان کر سکتا ہے، خواہ وہ کوئی اصول ہو یا کوئی قول و قرار ، خواہ وہ کوئی اخلاقی تقاضا ہو یا کوئی انسانی تقاضا۔ وہ اپنی ذات کے لیے ہر دوسری چیز کو بھلا سکتا ہے، وہ اپنی خواہشات کے لیے ہر دوسرے تقاضے کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ تاریخ ساز انسان کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے خول سے نکل آتا ہے۔ وہ برتر مقصد کے لیے جیتا ہے۔ وہ اصولوں کو اہمیت دیتا ہے، نہ کہ مفادات کو۔ وہ مقصد کے لیے تڑپنے والا انسان ہوتا ہے، نہ کہ مفاد کے لیے تڑپنے والا انسان۔ وہ اپنے آپ میں رہتے ہوئے اپنے آپ سے جدا ہو جاتا ہے۔ تاریخ ساز انسان بننے کی واحد شرط خود سازی کو چھوڑنا ہے۔ آدمی جب اپنے کو فنا کرتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page