Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

اٹھنے والے باغیانہ جذبات کو کچلنا ہی وہ چیز ہے جو اجتماعی عمل کو ممکن بناتی ہے۔ اس قربانی کے بغیر کبھی اجتماعی عمل ظہور میں نہیں آتا۔ حقیقی حل ایک فارسی شاعر نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے دوست سے سو بار جنگ کی اور سو بار صلح کی۔ مگر اس کو ہماری جنگ و صلح کی خبر بھی نہ ہوسکی۔ کیوں کہ یہ سب ہم خود ہی خود اپنے اندر کرتے رہے: صد بار جنگ کردہ بہ اصلح کردہ ایم او را خبر نہ بودہ صلح وز جنگ ما یہ بات بظاہر شاعری کی دنیا کی ہے مگر یہ حقیقت کی دنیا کے لیے بھی نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے جس صلاحیت کے افراد درکار ہوتے ہیں وہ بھی عین وہی صلاحیت ہے جس کا ذکر اس شعر میں کیا گیا ہے۔ یعنی اپنے اندر پیدا ہونے والی شکایت کو خود ہی اپنے اندر ختم کر لینا ۔ کوئی بڑا مقصد کوئی شخص تنہا حاصل نہیں کر سکتا۔ ہر بڑے مقصد کے لیے بہت سے آدمیوں کی متحدہ کوشش ضروری ہوتی ہے۔ مگر متحدہ کوشش ہمیشہ ایک مسئلہ بھی پیدا کرتی ہے۔ اور وہ ہے افراد کا باہمی اختلاف۔ جب بھی بہت سے لوگ مل کر کوشش کریں تو لازماً ان کے درمیان طرح طرح کی شکایتیں اور تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کبھی تقسیم میں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو با اعتبار عہدہ اونچی جگہ ملتی ہے اور کسی کو نیچی۔ کسی کی کوئی بات دوسرے کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔ کسی کا کوئی عمل دوسرے کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آتا ہے۔ غرض بار بار ایک دوسرے کے درمیان ایسی باتیں ہوتی ہیں جو آپس کی تلخی پیدا کریں۔ جو ایک کو دوسرے کے خلاف غصہ، حسد، انتقام اور عداوت میں مبتلا کر دیں۔ ایسے موقع پر قابل عمل حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک خود اصلاحی مشین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page