Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

جاپان میں ہر سرگرمی اجتماعی سرگرمی ہے۔ وہاں کوئی سرگرمی انفرادی عظمت یا شخصی اشتہار کا ذریعہ نہیں بنائی جاتی۔ جاپانیوں کی یہ خصوصیت ان کی قومی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ زیادہ بڑی ترقی ہمیشہ اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کہ زیادہ بڑی تعداد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرے۔ مل کر کام کرنے میں اصل رکاوٹ یہ ہے کہ افراد کی انفرادی شخصیت اس میں نہیں ابھرتی۔ جس قوم کے افراد میں اپنی انفرادی شخصیت بنانے کا مزاج ہو وہ قوم کبھی متحدہ عمل میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اور اسی لیے وہ کوئی بڑی ترقی بھی نہیں کر سکتی۔ بڑی ترقی حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ اتحاد ہے۔ اتحاد ایک کو کئی بنا دیتا ہے، وہ کوشش کی مقدار کو ہزار گنا زیادہ کر دیتا ہے۔ اتحاد کا طریقہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ قاعدہ ہے کہ باری باری ہر معیار پر مختلف علاقائی گروہوں (Regional groups) کو صدارت کا موقع دیا جاتا ہے۔ پچھلی میعاد میں لاطینی امریکا کو صدر مقرر ہونا تھا۔ مگر جب انتخاب کا مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش ہوا تو لاطینی امریکا کے ممالک کسی ایک ممبر ملک کی صدارت پر متفق نہ ہو سکے۔ نتیجہ یہ ہوا 158 ممبران کی پوری اسمبلی سے ووٹ لیا گیا اور عمومی ووٹوں کی کثرت سے اس کا فیصلہ کیا گیا۔ یہی صورت اکثر حالات میں پیش آتی ہے۔ موجودہ میعاد میں افریقہ کی باری تھی۔ جب یہ مسئلہ زیر غور آیا تو افریقی ممالک نے اتفاق رائے سے منظور کر لیا کہ زامبیا کے مندوب مسٹر پال لوسا کا (Paul Lusaka) 39 ویں جنرل اسمبلی کے صدر ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 39 واں سیشن ستمبر 1984 میں شروع ہوگا۔ واضح ہو کہ افریقی ممالک نظریاتی اعتبار سے ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ مثلاً لیبیا پر جوش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page