Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتا ہے۔ ایک کے دل میں دوسرے کے خلاف شکایت کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ ایسا بہر حال ہوتا ہے۔ جمع ہونے والے لوگ انفرادی طور پر خواہ کتنے ہی اچھے ہوں مگر ایک دوسرے کے خلاف اس قسم کے منفی جذبات لازماً پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی پیدائش کو کسی حال میں روکا نہیں جا سکتا۔ ایسی حالت میں متحدہ کوشش اور مشترکہ عمل کو کیسے ممکن بنایا جائے۔ اس کی ایک ہی صورت ہے ۔ اور وہ ہے اختلاف کے باوجود متحد رہنا۔ لوگوں کو شعوری طور پر اتنا بیدار ہونا چاہیے کہ وہ ہر شکایت کو پی جائیں۔ ہر جذباتی رد عمل کو اپنے سینہ میں دفن کر دیں۔ وہ اتحاد کو باقی رکھنے کی خاطر ہر اختلافی بات کو برداشت کرتے رہیں۔ یہ مطالبہ کسی ناممکن چیز کا مطالبہ نہیں ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو ہر آدمی عملی اپنے گھر میں اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایک گھر جس کے اندر چند افراد خاندان مل کر رہتے ہوں ان میں روزانہ کسی نہ کسی بات پر ناگواری پیش آتی ہے۔ روزانہ ایک کے دل میں دوسرے کے خلاف شکایتی جذبات ابھرتے ہیں۔ مگر پھر خونی رشتہ غالب آتا ہے۔ بار بار ناگواری پیدا ہوتی ہے اور بار بار باہمی محبت کا جذبہ اسے ختم کرتا رہتا ہے۔ اس طرح گھر کا اتحاد برقرار رہتا ہے۔ ہر گھر اختلاف کے باوجود متحد رہنے کی عملی مثال ہے۔ یہی چیز اجتماعی زندگی میں شعور کے تحت ظہور میں آتی ہے۔ خاندانی زندگی میں جو واقعہ محبت کے جذبہ کے تحت پیش آتا ہے وہی واقعہ اجتماعی زندگی میں شعوری فیصلہ کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ گھر کے اندر دل کا تعلق لوگوں کو باہم جڑے رہنے پر مجبور کرتا ہے اور گھر کے باہر لوگوں کا عقلی فیصلہ انھیں اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ اتحاد کو باقی رکھنے کی خاطر ہر ناگواری کو گوارا کرتے رہیں۔ اختلاف دشمن کا ہتھیار اسرائیل کے سابق وزیر جنگ موشے دایان (1981-1915) نے اپنی خود نوشت سوانح عمری (The Story of My Life ) میں لکھا تھا کہ غیر متحد عرب جوہر چھوٹے بڑے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page