Urdu book · راز حیات

اختلاف دشمن کا ہتھیار

Urdu book, p. 278

By Maulana Wahiduddin Khan

مسئلہ پر ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں، اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ نہیں بن سکتے۔ The Arabs, disunited and at odds with one another over every issue, big and small, present no threat. اب 1983 کے نصف آخر میں خود فلسطینی تنظیم (الفتح) میں اختلاف اور باہمی ٹکراؤ شروع ہو گیا ہے۔ لبنان میں فلسطینیوں کی ناکامی کے بعد ان کے ایک بڑے طبقہ میں یاسر عرفات کی قیادت پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ وہ ابو موسیٰ کے جھنڈے کے نیچے یاسر عرفات کو قیادت سے ہٹانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف یاسر عرفات قیادت کے منصب سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس طرح فلسطینیوں میں دو گروہ بن گئے ہیں اور وہ آپس میں خوں ریز تصادم میں مصروف ہیں۔ ان حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اسرائیل کے وزیر خارجہ یتزاک شامر (Yitzhak Shamir) کا قول نقل کیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں یہ کہوں گا کہ یہ اسرائیل کے حق میں اچھا ہے کہ فلسطینی تنظیم کے درمیان اندرونی جھگڑے، علیحدگی اور تقسیم پائی جارہی ہے: I must say tha it is good for Israel that there are domestic quarrels, breakups and divisions wiithin the organization of the PLO. واشنگٹن پوسٹ نے مزید نقل کیا ہے کہ اسرائیل کے محکمہ جنگ کے ایک افسر نے کہا کہ اسرائیل میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ لبنان کے شمالی اور مشرقی حصہ میں یاسر عرفات کے خلاف بڑھتی ہوئی بغاو ت کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر فلسطینی حملوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ اسرائیل کے محکمہ جنگ کے دوسرے افسر نے اس کے جواب میں کہا: They are busy themselves, and that is good for us. وہ لوگ خود اپنے درمیان مصروف ہیں اور یہ ہمارے لیے بہت اچھا ہے (گارڈین ، 3 جولائی 1983)۔ آپس میں لڑنا گویا اپنا دشمن آپ بننا ہے۔ یہ اس تخریبی کام کو خود اپنے ہاتھوں انجام دینا ہے جس کو دشمن اپنے ہاتھوں سے انجام دینا چاہتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page