Urdu book · راز حیات

بیکار بھاؤ بکؤ گے

Urdu book, p. 285

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ تمثیل بہت بامعنی ہے۔ ایک مشین کے اندر بہت سے پرزے ہوتے ہیں۔ مگر پرزے کی اہمیت اپنی مشین سے جڑے رہنے میں ہے۔ مشین سے جڑ کر ایک پرزہ انجن کا حصہ ہوتا ہے۔ مجموعی اعتبار سے وہ انجن کہا جاتا ہے۔ لیکن پرزہ اگر اپنی مشین سے الگ ہو جائے تو وہ اپنی ساری اہمیت کھو دے گا۔ اب وہ کباڑ خانہ کا حصہ ہوگا، نہ کہ مشین کا حصہ۔ اب اس کی قیمت ”لوہا“ کی ہو جائے گی جب کہ اس سے پہلے اس کی قیمت مشین کی تھی۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان اپنے پورے مجموعہ میں شامل ہو تو وہ عظیم تر مجموعہ کا جز ہے۔ متحد ہونے کی صورت میں ایک فرد کی بھی وہی قیمت ہو جاتی ہے جو پورے مجموعہ کی قیمت ہے۔ مگر جو فرد اتحاد کے بندھن سے الگ ہو جائے وہ بس ایک فرد ہے۔ اس کی مثال اس پرزہ کی سی ہے جو اپنے انجن سے الگ ہو گیا ہو۔ ایسا پرزہ کباڑ خانہ میں جا کر لوہے کے بھاؤ بکتا ہے۔ اسی طرح فرد اپنے مجموعہ سے الگ ہو کر اپنی قیمت کھو دیتا ہے۔ پرزہ کو انجن کا جز ء بننے کے لیے اپنی انفرادی ہستی کھو دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح فرد کو بھی متحدہ مجموعہ کا جز ء بننے کے لیے اپنی انفرادیت کو کھونا پڑتا ہے۔ یقیناً فرد کے لیے یہ ایک بھاری قیمت ہے۔ مگر اس دنیا میں کوئی بھی چیز قیمت دیے بغیر نہیں ملتی۔ فرد کی تسکین کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے اتحاد کی جو قیمت دی تھی اس سے بڑی چیز اس نے اپنے لیے پالی۔ ”لوہا“، اگر اپنی انفرادیت کو کھو کر ”مشین“ کا درجہ حاصل کر لے تو یہ اس کے لیے کھونا نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑی چیز پالینا ہے جس کی وہ اس دنیا میں تمنا کر سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page