Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 284

By Maulana Wahiduddin Khan

میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اس ”گٹھری“ کی رکھوالی کروں یا سوؤں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے کے بارے میں شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس کے خلاف سخت برہم ہو جاتا ہے۔ اپنے طور پر وہ سمجھتا ہے کہ اس کی شکایت اور برہمی بالکل بجا ہے۔ حالانکہ اس کی وجہ صرف اس کا ناقص علم ہوتا ہے۔ پوری صورت حال سے بے خبری کی بنا پر وہ بطور خود ایک رائے قائم کر لیتا ہے اور اس پر شدت سے قائم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اصل واقعہ کے اعتبار سے اس کی شکایت کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ اس برائی سے بچنے کی ترکیب قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ جب بھی کوئی بات سنو تو اس کی تحقیق کر لو (49:6)۔ اگر آدمی واقعتاً سنجیدہ ہو تو وہ دو میں سے کوئی ایک رویہ اختیار کرے گا۔ یا تو سنی ہوئی بات کو بھلا دے گا اور اس کا کوئی چرچا نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی وجہ سے وہ اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے وہ متعلقہ شخص سے اس کی تحقیق کرے گا۔ اور تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئے گی اس کو مان لے گا۔ تحقیق کے بغیر شکایتوں کا چرچا کرنا جتنا غلط ہے اتنا ہی غلط یہ بھی ہے کہ تحقیق کے بعد بھی آدمی اپنی رائے پر قائم رہے۔ متعلقہ شخص کی تردید کے باوجود وہ اس کو مسلسل دہراتا رہے۔ بیکار بھاؤ بک و گے شری ہر دیوسنگھ المست (1983-1927) انگریزی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ وہ اکثر سادہ مثالوں میں بڑی گہری باتیں کیا کرتے تھے۔ شری المست جی نے ایک بار اپنا ایک گیت سنایا۔ یہ گیت پنجابی زبان میں تھا۔ اس گیت میں موٹر کار کے پرزوں کو خطاب کیا گیا تھا۔ شاعر نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تھا کہ — اے پرزو، تم اپنے انجن کے ساتھ جڑے رہو۔ اسی میں تمہاری قیمت ہے۔ اگر تم اپنے انجن سے الگ ہو گئے تو یاد رکھو کہ تم اس دنیا میں بے کار لوہے کے بھاؤ بک و گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page