بے غرضی
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
یا خاندان کے وسیع تر مفاد کی خاطر وہ وقتی نقصان کو سہنے کے لیے راضی ہو جاتے ہیں۔ (ہندوستان ٹائمز 25 اگست 1981) کسی قوم کی تعمیر میں سب سے اہم چیز اس کے افراد کا مزاج ہے۔ افراد کا مزاج اگر بگڑا ہوا ہے تو قوم کو تباہ ہونے سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی اور اگر افراد کا مزاج درست ہے تو ایسی قوم ضرور کامیاب ہو کر رہتی ہے خواہ اس کے دشمنوں کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ قوم کی تعمیر میں افراد کا درجہ وہی ہے جو کسی عمارت میں اینٹوں کا ہے۔ کچی اینٹوں سے بنی ہوئی عمارت ایک بے اعتبار عمارت ہوتی ہے۔ کوئی بھی حادثہ اسے گرا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو عمارت پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی ہو اس پر پورا بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ سیلاب اور طوفان کے علی الرغم زمین پر کھڑی رہتی ہے۔ ہر آندھی جو آتی ہے وہ اس سے ٹکرا کر واپس چلی جاتی ہے، وہ اس کا کچھ بگاڑنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ اپنے لیے کچھ دوسروں کے لیے کچھ سر رچرڈ ڈابسن (Sir Richard Dobson) انگلستان کے ایک کامیاب صنعت کار ہیں وہ 31 سال تک برٹش امیریکن ٹوبیکو (British American Tobacco) کے اعلیٰ ذمہ دار رہے ہیں۔ وہ ایک سال تک برٹش لیویلنڈ (British Leyland) کے چیئرمین رہے ہیں۔ یہ فرم دو منزلہ بس بنانے کے لیے بہت مشہور ہے۔ سر رچرڈ ڈابسن آج کل لندن کے ایک خاص علاقہ ، رچمنڈ (Richmond) میں مارچ منٹ روڈ (Marchmont Road) پر رہتے ہیں۔ یہ لندن کی ایک نہایت پرسکون سڑک ہے اور صرف کروڑ پتی قسم کے لوگ یہاں رہتے ہیں۔ حال میں ایسا ہوا کہ رچمنڈ علاقہ کی ایک سڑک خراب ہو گئی۔ اور اس پر از سر نو تعمیر کا کام چھیڑنا پڑا۔ اس سڑک پر لندن کی بس نمبر 65 چلتی تھی۔ چونکہ یہ سڑک تعمیری کام کی وجہ سے ناقابل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader