Urdu book · راز حیات

بے غرضی

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

استعمال ہو رہی تھی اس لیے عارضی طور پر اس کا روٹ بدل دیا گیا اور کچھ دنوں کے لیے اس کو مارچ منٹ روڈ سے لے جایا جانے لگا۔ سر رچرڈ ڈابسن اگرچہ ایک بہت بڑے مکان میں رہتے ہیں تاہم اپنے مکان کے سامنے کی سڑک سے دھواں نکالنے والی بس کا گزرنا انھیں پسند نہیں آیا۔ گارجین (14 اگست 1983) نے نقل کیا ہے کہ انھوں نے لندن کے اخبار میں اپنا ایک احتجاجی خط چھپوایا جس میں انھوں نے تحریر کیا تھا کہ تنہا بس کے ڈیزل ایندھن کی بو ہی توہین آمیز اور صحت کے لیے خطرناک ہے: The smell of the diesel fuel alone is an affront and a health hazard. سر رچرڈ ڈابسن سگریٹ اور بس کے تاجر ہیں۔ یہ دونوں چیزیں وہ ہیں جو دھواں نکال کر فضا خراب کرتی ہیں۔ وہ ساری زندگی دھوئیں کا کاروبار کرتے رہے۔ یہ دھواں جب تک دوسروں کے گھر میں پہنچ رہا تھا انھیں اس کی خرابی کا احساس نہیں ہوا۔ مگر ایک بار جب اتفاق سے وہ ان کے اپنے گھر کے اندر پہنچ گیا تو وہ چیخ اٹھے۔ ہر آدمی اپنے لیے کچھ چاہتا ہے اور دوسرے کے لیے کچھ ، اور بلاشبہ یہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کام یا نام مولانا شبلی نعمانی سے کسی نے پوچھا کہ بڑا آدمی بننے کا آسان نسخہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا۔ کسی بڑے آدمی کے اوپر کیچڑ اچھالنا شروع کر دو۔ اصل یہ ہے کہ کام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کام وہ ہے جو معروف میدانوں میں ہوتا ہے، دوسرا وہ جو غیر معروف میدان میں کیا جاتا ہے۔ معروف میدان میں زور دکھانے والا آدمی فوراً لوگوں کی نظروں کے سامنے آ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر معروف میدان میں محنت سے آدمی کو نہ شہرت ملتی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page