Urdu book · راز حیات

بے غرضی

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

اور نہ مقبولیت۔ جس چیز کا عوام میں چر چا ہو اس کے ساتھ اپنے کو ملانے میں آپ کا چر چا بھی بڑھے گا۔ اور جس چیز کا عوام میں چر چا نہ ہو اس کے ساتھ لگنے میں آپ بھی چرچے سے محروم رہیں گے۔ اگر آپ کسی مسلمہ شخصیت کے خلاف بولنے لگیں۔ کسی مشہور معاملہ کو اپنا نشانہ بنائیں، کسی حکومت سے ٹکراؤ شروع کر دیں۔ کوئی عالمی عنوان لے کر جلسہ جلوس کی دھوم مچائیں تو فوراً آپ اخباروں کے صفحہ اول میں چھپنے لگیں گے۔ لوگوں کے درمیان آپ پر تبصرے شروع ہو جائیں گے۔ آپ بہت سے لوگوں کے خیالات کا مرجع بن جائیں گے۔ آپ جلسہ کا اعلان کریں گے تو بھیڑ کی بھیڑ وہاں جمع ہو جائے گی۔ آپ چندے کا مطالبہ کریں گے تو لوگ آپ کو روپیہ میں تول دیں گے۔ لیکن اگر آپ خاموش تعمیری کاموں میں اپنے آپ کو لگائیں۔ ”گنبد“ کے بجائے ”بنیاد“ سے اپنے کام کا آغاز کریں۔ انقلابی پوسٹر چھاپنے کے بجائے خاموش جدوجہد کو اپنا شعار بنائیں۔ ملت کا جھنڈا بلند کرنے کے بجائے فرد کی اصلاح پر محنت کریں۔ سیاسی ہنگامہ چھیڑنے کے بجائے غیر سیاسی میدان میں اپنے کو مشغول کریں، تحیر انگیز طور پر آپ دیکھیں گے کہ آپ کے گرد نہ ساتھیوں کی بھیڑ ہے اور نہ چندہ دینے والوں کی قطاریں۔ آپ کا نام نہ اخباروں کی سرخیوں میں جگہ پا رہا ہے اور نہ پر رونق جلسوں کے ڈائس کی زینت بن رہا ہے۔ مگر یہی دوسرا کام کام ہے۔ اسی کے ذریعہ کسی حقیقی نتیجہ کی امید کی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس پہلا کام کام کے نام پر استحصال ہے۔ اس سے شخصی قیادتیں تو ضرور چمکتی ہیں مگر قوم اور ملت کو اس سے کچھ ملنے والا نہیں ہے۔ ایک اگر کام ہے تو دوسرا صرف نام۔ تعبیر کا فرق ”قم“ کے معنی عربی زبان میں ”اٹھو“ کے ہیں اور قم ایران کے ایک شہر کا نام بھی ہے۔ ایک پرانا لطیفہ ہے کہ شہر قم کے قاضی صاحب کو ان کے حاکم کا ایک حکم نامہ ملا جس میں عربی زبان میں یہ تحریر تھا: یا قاضی قم لقد شبت فقم ۔ اس جملہ کا لفظی مطلب یہ ہے کہ اے قم کے قاضی، اب تم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page