Urdu book · راز حیات

بے غرضی

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

قانع بنئے ایک صاحب نے اپنی زندگی کا آغاز معمولی ملازمت سے کیا تھا اور اب ان کا کافی بڑا کاروبار ہو چکا ہے۔ انھوں نے ایک ملاقات میں کہا: ”جب میں دوسوروپیہ کا ملازم تھا تو میں اپنے کو سور وپیہ کا آدمی سمجھتا تھا، اب جب کہ میرا کاروبار دو کروڑ روپیہ تک پہنچ چکا ہے تب بھی میں اپنے کو صرف ایک کروڑ روپیہ کا آدمی سمجھتا ہوں“۔ یہ وہی چیز ہے جس کو مذہب کی اصطلاح میں قناعت کہا جاتا ہے۔ اس قناعت کا تعلق انفرادی معاملات سے بھی ہے اور اجتماعی معاملات سے بھی۔ یہ بات جو ایک آدمی نے سادہ طور پر کہی، یہی زندگی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اکثر حالات میں آدمی صرف اس لیے ناکام رہتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ کر لیتا ہے، وہ اپنی حقیقی استعداد سے زیادہ بڑا اقدام کر دیتا ہے، وہ ”کم“ پر قناعت نہ کرتے ہوئے ”زیادہ“ کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ آدمی اگر مذکورہ تاجر کے اصول پر رہے تو وہ کبھی ناکامی سے دوچار نہیں ہو سکتا۔ جو آدمی زیادہ خرچ کی استطاعت رکھتے ہوئے کم خرچ کرے وہ کبھی اقتصادی بحران کا شکار نہیں ہوگا۔ جو آدمی دوڑنے کی طاقت رکھتے ہوئے آہستہ چلے اس کے ساتھ کبھی یہ حادثہ پیش نہ آئے گا کہ وہ راستہ میں تھک کر بیٹھ جائے۔ جو اپنے مخالف پر وار کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہوئے صبر کر جائے وہ کبھی اپنے مخالف سے شکست نہیں کھا سکتا۔ جو بڑے کام کے قابل ہوتے ہوئے اپنے آپ کو چھوٹے کام میں لگا دے وہ کبھی اپنی کوششوں کو رائیگاں کرنے والا ثابت نہیں ہوگا۔ جو سیاسی مقابلہ آرائی کا موقع رکھتے ہوئے غیر سیاسی کام میں اپنے کو مشغول کرلے اس کا انجام کبھی نہ ہوگا کہ پر شور مل کے بعد بالآخر اس کے حصہ میں جو چیز آئے وہ صرف احتجاج اور فریاد ہو۔ جس کے لیے شہرت کا میدان کھلا ہوا ہو مگر وہ اپنے کو گم نامی کے میدان میں کام کرنے پر راضی کرلے۔ وہ کبھی اس حال میں دنیا سے نہیں جا سکتا کہ اس نے اپنے پیچھے اپنا نشانِ دار مقبرہ نہ چھوڑا ہو مگر اس کے عمل کے شان دار نتائج کا کہیں پتہ نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page