راز حیات
Urdu book, p. 295
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص کا قول ہے: دور کے بڑے فائدہ کی خاطر قریب کے چھوٹے فائدہ کو قربان کیا جا سکتا ہے: Present short interest can be sacrificed for the larger long range gain. اس میں شک نہیں کہ یہ ترقی کا بہت اہم اصول ہے۔ مگر اس اصول کو وہی لوگ برت سکتے ہیں جو دور تک سوچ کر اقدام کرنا جانیں، نہ کہ فوری طور پر بھڑک کر اُٹھ کھڑے ہوں۔ پاگل پن ایک لطیفہ ہے کہ کسی وکیل صاحب نے قانون کی پریکٹس میں کافی پیسہ کمایا تھا۔ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت نامہ لکھوایا۔ اپنی وصیت میں انہوں نے کہا تھا کہ میری ساری دولت اور جائیداد میرے مرنے کے بعد پاگل لوگوں میں تقسیم کردی جائے۔ کسی نے اس کار خیر کی وجہ پوچھی تو وکیل صاحب نے جواب دیا: میرے پاس جو کچھ ہے وہ پاگلوں ہی سے تو مجھے ملا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ "قانون" کا کاروبار پاگل انسانوں کے ذریعہ دنیا میں قائم ہے۔ آدمی انتقام کے جوش میں آکر کسی کو قتل کردیتا ہے۔ کوئی شخص کسی کی جائیداد ہڑپ کر لیتا ہے کوئی حسد اور بغض کا شکار ہو کر کسی کو پریشان کرنا چاہتا ہے اور اپنے آپ کو بے بس پا کر اس کو عدالت کے شکنجہ میں الجھانے کے لیے اس کے اوپر جھوٹے مقدمے قائم کرتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعہ وکیلوں کی تجارت قائم ہے۔ اس قسم کے لوگ اگر چہ اپنے کو عاقل اور ہوشیار سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بد ترین قسم کے پاگل ہیں۔ عام پاگل صرف اپنے لیے پاگل ہوتے ہیں۔ مگر یہ ہوشیار پاگل اپنے ساتھ ساری انسانیت کے لیے پاگل ہیں۔ ان کی آخری سزا اگر چہ خدا کے یہاں ملے گی۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader