Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے گرد ایک نقشہ بنا لیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں وہ اکیلا نہیں ہے۔ چنانچہ بہت جلد خارجی حقیقتیں اس سے ٹکراتی ہیں اور اس کے نقشہ کو توڑ ڈالتی ہیں۔ اس وقت آدمی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ذاتی مفاد بھی اسی میں تھا کہ وہ مجموعی مفاد کا لحاظ کرتا۔ اگر آپ اپنی ذات کا فائدہ چاہتے ہوں تب بھی آپ کو سب کا فائدہ چاہنا چاہیے۔ سب کے فائدے میں آپ کا اپنا فائدہ بھی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی ایک اجتماعی کشتی میں سوار ہے۔ کشتی کے بچاؤ میں اس کی اپنی ذات کا بچاؤ بھی اپنے آپ شامل ہے۔ جن لوگوں کو اس دنیا میں کچھ مواقع ملتے ہیں وہ اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ اپنی ذات کے لحاظ سے اصول اور قاعدے بنانے لگتے ہیں۔ وہ جس طریقے میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں اس کو رائج کرنے لگتے ہیں مگر یہ طریقہ اکثر الٹا پڑتا ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کوئی شخص ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا۔ مواقع کبھی ایک شخص کے ہاتھ میں آتے ہیں اور کبھی وہ دوسرے کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں محض اپنی ذات کو سامنے رکھ کر قواعد بنانا عقل مندی نہیں۔ کیوں کہ عین ممکن ہے کہ حالات بدلیں اور جو چیز پہلے آپ کو اپنے موافق نظر آتی تھی وہ بعد کو آپ کے مخالف بن جائے۔ اپنی ذات کو مرکز بنا کر سوچنا با اعتبار حقیقت نہ اپنی ذات کے لیے مفید ہے اور نہ بقیہ انسانیت کے لیے۔ مغالطہ کولن ولسن (Colin Wilson) انگریزی زبان کا شاعر تھا۔ اس کے خیالات بہت سخت تھے۔ اس کو بیسویں صدی کے سارے مغربی ادب کا انسان شکست خوردہ، مفلوج اور قنوطیت زدہ نظر آتا ہے۔ اس کے نزدیک آج کا انسان اس ذہنی مرض میں مبتلا ہے جس کو وہ (fallacy of insignificance) یعنی بے اہمیت کا مغالطہ کہتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کا زیادہ بڑا ذہنی مرض وہ ہے جو اس کے برعکس نفسیات پیدا کرتا ہے اور وہ اہمیت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page