راز حیات
Urdu book, p. 297
By Maulana Wahiduddin Khan
چیز میں کمی کا بدل نہیں ہے۔ اگر آپ کا اپنا ”جسم“ چھوٹا ہے تو ”سٹیج“ کو اونچا کر کے آپ کبھی بلندی کا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ جب بھی آدمی زندگی کی دوڑ میں پیچھے ہو جائے تو اس کی وجہ ہمیشہ اپنی کوئی کمی ہوگی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کمی کو جانے۔ وہ اپنی ساری توجہ اپنی کمی کو دور کرنے میں لگا دے۔ اپنی کمی کو دور کر کے دوبارہ آدمی اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کر سکتا ہے۔ مگر دوسری باتوں پر ہنگامہ کھڑا کر کے وہ صرف وقت کو ضائع کرتا رہے گا۔ اگر آپ کارکردگی میں کم ہوں تو مطالبات میں اضافہ سے آپ اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ منصوبہ بندی میں کم ہوں تو شور و غل میں زیادتی سے آپ اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ معنویت میں کم ہوں تو آپ الفاظ میں اضافہ سے اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ مقابلہ کی دوڑ میں پیچھے ہو گئے ہوں تو احتجاج اور شکایت میں اضافہ سے آپ زندگی کی اگلی صفوں میں جگہ نہیں پاسکتے۔ ایک حقیقی کمی صرف حقیقی چیز سے پوری ہو سکتی ہے، نہ کہ کسی غیر حقیقی اور غیر متعلق چیز سے۔ سب کا فائدہ ایک لطیفہ ہے کہ شہنشاہ اکبر نے ایک روز اپنے خاص درباری بیر بل سے کہا: بیر بل! اگر ایک بادشاہ کی بادشاہت ہمیشہ رہتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ بیر بل نے جواب دیا: عالی جاہ، آپ نے بجا فرمایا۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو آج آپ بادشاہ کیوں کر ہوتے۔ اکبر نے بادشاہت کو اپنی ذات سے شروع کیا۔ اس نے سوچا کہ اگر دنیا میں یہ اصول رائج ہو کہ ایک بادشاہ ہمیشہ باقی رہے تو میں ہمیشہ اسی طرح بادشاہ بنا رہوں گا۔ اکبر بھول گیا کہ بادشاہت کا سلسلہ تو دنیا میں اس وقت سے ہے جب کہ وہ پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ ایسی حالت میں اگر اکبر کا پسندیدہ اصول دنیا میں رائج ہوتا تو اس کی نوبت ہی نہ آتی کہ اکبر بادشاہ بن کر تخت پر بیٹھے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی ذات کو سامنے رکھ کر سوچتا ہے۔ وہ صرف ذاتی مفاد کے تحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader