راز حیات
Urdu book, p. 305
By Maulana Wahiduddin Khan
کتر ا کر آگے بڑھ جائے ۔ یہ دنیا ہوش مندی کا امتحان ہے، یہاں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو اس نازک امتحان میں پورا اترے۔ کامیابی کا راز یہاں ہے یہ مدراس کا واقعہ ہے۔ سمندر کے ساحل پر دونوں نوجوان نہار ہے تھے۔ دونوں دوست تھے اور تیراکی اچھی جانتے تھے۔ وہ پانی کے اوپر اوپر بھی تیرتے تھے اور ڈبکی لگا کر پانی کے اندر اندر بھی دور تک نکل جاتے تھے۔ دونوں تیرتے ہوئے دور تک چلے گئے۔ اس کے بعد موجوں کا ایک تھیپیڑ آیا۔ دونوں اس کی زد میں آگئے۔ ایک نوجوان زیادہ ماہر تھا۔”میں موجوں سے لڑ کر پار ہو جاؤں گا۔“ اس نے کہا اور موجوں کے مقابلہ میں اپنی تیراکی کا کمال دکھانے لگا۔ مگر موجوں کا زور زیادہ تھا، وہ اپنے طاقت ور بازوؤں کے باوجود ان سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اور ڈوب کر مر گیا۔ دوسرا نوجوان بھی طوفان کی زد میں آیا۔ تھوڑی دیر اس نے اپنے ساتھی کی پیروی کی۔ اس کے بعد اس نے محسوس کر لیا کہ موجوں کی شدت اس سے زیادہ ہے کہ میرے بازو اس کا مقابلہ کر کے نکلنے میں کامیاب ہو سکیں۔ اچانک اس کو ایک بات یاد آئی۔ اس نے سنا تھا کہ موجیں خواہ کتنی ہی شدید ہوں ان کا زور اوپر اوپر رہتا ہے۔ پانی کی نیچے کی سطح پھر بھی ساکن رہتی ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنا طریق عمل بدل دیا۔ اوپر کی موجوں سے لڑنے کے بجائے اس نے نیچے کی طرف ڈبکی لگائی اور پانی کی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ یہاں پانی نسبتاً ٹھہرا ہوا تھا اور اس کے لیے ممکن تھا کہ وہ اپنے تیرنے کے فن کو کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکے۔ اس نے ساحل کی طرف تیرنا شروع کر دیا۔ اگر چہ وہ کافی تھک چکا تھا۔ تاہم ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے بالآخر وہ سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ کنارے پہنچتے پہنچتے وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔ سمندر کے کنارے چند ملاح اپنی کشتیاں لیے ہوئے موجود تھے۔ انھوں نے فوراً اس کو دیکھ کر اٹھایا اور خشکی پر لے گئے۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader