Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 306

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد اس کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں چندن زیر علاج رہ کر وہ اچھا ہو گیا ۔ جس نے موجوں سے لڑنے کو تیراکی سمجھا تھا وہ ہلاک ہو گیا اور جس نے موجوں سے کترا کر نکلنے کا طریقہ اختیار کیا وہ کامیاب رہا۔ یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ زندگی میں طرح طرح کے طوفان آتے ہیں۔ مگر عقل مندی یہ نہیں ہے کہ جو تھپیڑ اسامنے آئے بس آدمی اس سے لڑنا شروع کر دے۔ عقل مندی یہ ہے کہ آدمی جائزہ لے کر دیکھے کہ کامیابی کے ساتھ ساحل تک پہنچنے کا زیادہ قابل عمل راستہ کون سا ہے۔ اور جو راستہ قابل عمل ہو اسی کو اختیار کرے خواہ وہ موجوں کی سطح سے اتر کر نیچے نیچے اپنا راستہ بنانا کیوں نہ ہو۔ یہ قدرت کا انتظام ہے کہ دریاؤں اور سمندروں میں جو تیز و تند موجیں اٹھتی ہیں وہ پانی کے اوپر اوپر رہتی ہیں۔ پانی کے نیچے کی سطح ساکن رہتی ہے۔ چنانچہ بھنور کے وقت مچھلیاں نچلی سطح پر چلی جاتی ہیں۔ یہ قدرت کا سبق ہے۔ اس طرح قدرت ہم کو بتاتی ہے کہ طوفانی موجوں کے وقت ہم کو کیا طریق عمل اختیار کرنا چاہیے۔ زندگی میں کبھی طوفان سے لڑنا بھی پڑتا ہے۔ مگر اکثر اوقات کامیابی کا راز یہ ہوتا ہے کہ آدمی طوفانی سیلاب سے کترا کر نکل جائے وہ طوفان کی زد سے بچتا ہوا اپنا راستہ بنائے۔ شیر کا سبق جم کاربٹ (1875-1955 ,Jim Corbett) شیر کے مطالعہ کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے نام پر ہندوستان میں حیوانات کا ایک پارک بنا ہوا ہے ، جم کاربٹ نیشنل پارک نینی تال۔ جم کاربٹ نے لکھا ہے کہ کوئی شیر کسی آدمی پر اس وقت تک حملہ نہیں کرتا جب تک کہ اس کو اپنی طرف سے کوئی کارروائی کر کے بھڑک نہ دیا جائے: No tiger attacks a human being unless provoked. جو لوگ جنگل کے علاقوں میں رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اگر کبھی ان کا سابقہ شیر سے پڑ جائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page