شیر کا سبق
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
تو اس میں خطرہ کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ شیر اپنا راستہ چلتا ہوا گزر جائے گا۔ بشرطیکہ اس کو چھیڑا نہ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیر اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان دشمن جانور نہیں۔ شیر کے لیے " مردم خور " کا لفظ صرف اتفاقی معنی میں صحیح ہے۔ شیر پیدائشی طور پر مردم خور نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض نادان انسانوں کی کارروائیاں کسی شیر کو مردم خور بنا دیتی ہیں۔ کسی شیر کو مردم خور بنانے والے اکثر وہ غیر ماہر شکاری ہوتے ہیں جو کافی تیقن کے بغیر شیر کے اوپر اپنا کارتوس خالی کر دیتے ہیں۔ وہ شیر مارنے کے شوق میں شیر پر گولی چلاتے ہیں مگر کافی مہارت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی گولی صحیح نشانہ پر نہیں پڑتی اور اچٹتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ شیر معمولی طور پر زخمی ہو جاتا ہے مگر وہ مرتا نہیں ۔ اس قسم کا زخم خوردہ شیر انسان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی انسانی صورت کو دیکھتا ہے اس کو اپنا دشمن سمجھ لیتا ہے اور اس پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیتا ہے۔ یہی حال اکثر درندہ جانوروں کا ہے۔ اس مثال میں ہمارے لیے دو بہت بڑے سبق ہیں۔ ایک یہ کہ کسی کو پیشگی طور پر اپنا " دشمن " سمجھ لینا درست نہیں۔ حتی کہ ایک درندہ صفت انسان کو بھی نہیں۔ کوئی شخص اسی سے دشمنانہ معاملہ کرتا ہے جس کو وہ اپنا دشمن سمجھ لے ۔ اگر ہم اپنے کو دشمن ظاہر نہ کریں تو دوسرا بھی ہم سے دشمن کا سلوک نہیں کرے گا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ ناکافی تیاری کے بغیر کبھی کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ اپنے حریف پر ایسے اقدامات کریں جو کافی تیاری کے بغیر کیے گئے ہوں اور اس بنا پر وہ فیصلہ کن نہ بن سکیں تو ایسا اقدام آپ کے حریف کو پہلے سے زیادہ مشتعل کر کے آپ کے مسئلہ کو اور زیادہ سنگین بنا دے گا۔ ہر شخص خود اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اپنی ضرورتوں کی تکمیل میں مشغول رہتا ہے اور اگر ضرورتیں پوری ہو جائیں تو ہوس کی تکمیل میں ۔ یہ ایک قدرتی نظام ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے روکے رہتا ہے۔ آپ دوسرے کو نہ چھیڑیئے اور آپ دوسرے کے ظلم سے محفوظ رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader