Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 309

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اچھا جواب وہ ہے جب کہ جواب دینے والا ایسا سوچا سمجھا ہو اوزنی جواب دے جس کے بعد سوال کرنے والے کی سمجھ ہی میں نہ آئے کہ اس کے آگے وہ کیا کہہ سکتا ہے۔ اشتعال نہیں ایک صاحب ہیں۔ وہ بظاہر عام حلیہ میں رہتے ہیں مگر مزاج کے اعتبار سے بہت دیندار ہیں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ آدمی ہیں اور قرآن و حدیث کے موضوعات پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ایک روز نماز جمعہ کے بعد مسجد میں ان کی ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی۔ موصوف کے ساتھی نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں صاحب ہیں اور وہ قرآن و حدیث پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ بزرگ نے موصوف کی طرف دیکھا تو انھوں نے پایا کہ وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ سر پر گاندھی ٹوپی ہے۔ داڑھی بھی ایک مشت کے ناپ سے کم ہے۔ بزرگ نے یہ دیکھ کر فرمایا۔ صورت سے تو ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ بزرگ کی زبان سے یہ توہین آمیز تبصرہ سن کر موصوف کو غصہ آگیا۔ تاہم انھوں نے برداشت کر لیا۔ وہ ایک لمحہ چپ رہے اور اس کے بعد بولے: آپ کا ارشاد بجا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کبھی گنہگاروں سے بھی اپنا کام لے لیتے ہیں۔ یہ ٹھنڈا جواب مذکورہ بزرگ کے لیے اتنا سخت ثابت ہوا کہ اس کے بعد وہ کچھ بول نہ سکے اور خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اشتعال کے وقت آدمی کو کیسا جواب دینا چاہیے ۔ جب بھی کوئی آدمی آپ پر تنقید کرتا ہے، آپ کے خلاف کوئی سخت بات کہہ دیتا ہے تو آپ کے بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ آپ چاہنے لگتے ہیں کہ اس کو بھسم کر دیں جس طرح اس نے آپ کو بھسم کیا ہے، مگر یہ طریقہ شیطانی طریقہ ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کڑواہٹ کو پی جائیں۔ جو جھٹکا آپ پر لگا ہے اس کو دوسرے کے اوپر ڈالنے کے بجائے خود اپنے آپ پر سہہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page