Urdu book · راز حیات

اشتعال نہیں

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

لیں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کو ایک نئی قوت حاصل ہوگی۔ آپ اس حکمت کو جانیں گے کہ کڑوے الفاظ کا جواب میٹھے الفاظ سے دینا زیادہ سخت جواب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اشتعال کے وقت جو شخص صبر کرلے اور سوچ سمجھ کر بولے وہ زیادہ طاقتور انداز میں اپنی بات کہنے کے لائق ہو جاتا ہے وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ مشتعل الفاظ کا جواب ٹھنڈے الفاظ سے دے اور ٹھنڈک آگ کو زیادہ بجھانے والی ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اپنے مخالف کو معاف کر دے اور معاف کر دینا یقیناً سب سے بڑا انتقام ہے۔ جھگڑے سے بچ کر دو کسانوں کے کھیت ملے ہوئے تھے ۔ ان کے درمیان ایک مینڈ کا جھگڑا ہو گیا ۔ ہر ایک کہتا تھا کہ مینڈ میری ہے ۔ دونوں کھیت کی مینڈ پر لڑ گئے ۔ یہ جھگڑا پہلے ”مینڈ“ کا تھا پھر وہ ”سکھ“ کا مسئلہ بن گیا۔ ہر ایک کو دکھائی دینے لگا کہ مینڈ سے ہٹنا لوگوں کی نظر میں اپنے آپ کو بے عزت کرنا ہے۔ چنانچہ جھگڑا بڑھتا رہا۔ وہ یہاں تک بڑھا کہ دونوں طرف قتل ہوئے، کھیت کاٹے گئے ۔ دونوں نے ایک دوسرے کی چیزیں جلائیں۔ اس کے بعد معاملہ اور بڑھا۔ وہ پولیس اور عدالت کا معاملہ بن گیا۔ مقدمہ بازی کا لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ مقدمات 20 سال بعد صرف اس وقت ختم ہوئے جب کہ ان کے کھیت، باغ، زیورات سب بک گئے۔ ایک معمولی مینڈ کو پانے کے لیے دونوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ یہی مینڈ کا جھگڑا ایک اور کسان کے ساتھ پیدا ہوا۔ مگر اس نے فوری اشتعال کے تحت کاروائی کرنے کے بجائے اس پر غور کیا۔ سمجھ دار لوگوں سے مشورے کیے ۔ آخر کار اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ مینڈ کا جھگڑا مینڈ پر ٹٹے نہیں ہوتا۔ جھگڑے کو طے کرنے کی جگہ دوسری ہے۔ یہ سوچ کر اس نے جھگڑے کی مینڈ چھوڑ دی۔ اس نے یہ کیا کہ مسئلہ پر ” آج“ سے سوچنے کے بجائے ”پیچھے“ سے سوچنا شروع کیا۔ مینڈ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page