کہانی بن گئی
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
بنیاد مکان کی تعمیر کا آغاز بنیاد سے ہوتا ہے۔ ایک انجینئر کو ”اسکائی اسکریپر“ بنانا ہو تب بھی وہ بنیاد ہی سے اس کا آغاز کرے گا۔ بنیاد سے آغاز کرنا دوسرے لفظوں میں اس حقیقت واقع کا اعتراف کرنا ہے کہ آدمی کہاں کھڑا ہوا ہے اور وہ کون سا نقطہ ہے جہاں سے وہ اپنے سفر کا آغاز کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔ یہاں ایک طرف قدرت (نیچر) ہے جو ہم سے الگ خود اپنے قوانین پر قائم ہے۔ اسی کے ساتھ یہاں دوسرے انسان ہیں۔ ان میں سے ہر انسان کے سامنے اپنا مقصد ہے اور ہر شخص اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ہم ان حقیقتوں کو جانیں اور ان کی رعایت کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ زندگی کا سب سے بڑا راز حقیقت واقع کا اعتراف ہے۔ اعتراف کرنے والا آدمی اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ جس طرح اپنے ”پہ“ کو جانتا ہے اسی طرح وہ اپنے ”نہیں“ سے بھی واقف ہے۔ وہ ایک طرف اگر یہ جانتا ہے کہ کیا چیز اس کے لیے قابل حصول ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس سے بھی باخبر ہے کہ کیا چیز اس کے لیے قابل حصول نہیں۔ وہ آغاز اور انجام کے فرق کو جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ اپنا پہلا قدم اسے کہاں سے اٹھانا ہے اور وہ کون سا مقام ہے جہاں وہ آخر کار اپنے آپ کو پہنچانا چاہتا ہے۔ اعتراف بزدلی نہیں، اعتراف سب سے بڑی بہادری ہے۔ اعتراف کر کے آدمی بے عزت نہیں ہوتا، وہ عزت کے سب سے بڑے مقام کو پا لیتا ہے۔ جو شخص اعتراف نہ کرے وہ گویا فرضی خیالات میں جی رہا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اعتراف کرے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس نے فرضی تخیلات کے طلسم کو توڑ دیا ہے۔ وہ حقائق کی دنیا میں سانس لے رہا ہے۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ رہا ہے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ چیزوں کو ان کی اصل صورت میں دیکھنا دانش مندی کا آغاز ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو وہی کامیابی کے آخری زینہ پر پہنچتا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو وہ یا تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader