Urdu book · راز حیات

کہانی بن گئی

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنا سفر شروع نہ کر سکے گا اور اگر سفر شروع ہو گیا تب بھی وہ درمیان میں اٹک کر رہ جائے گا۔ وہ کبھی آخری منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ انسان کی شخصیت ایک برتن میں پانی ہے۔ اس سے ایک قطرہ ٹپکا۔ یہ قطرہ اگر بدبودار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ برتن کا سارا پانی بدبودار ہے۔ پانی کا قطرہ پانی کے پورے ذخیرہ کا نمائندہ ہے۔ پانی کا ایک قطرہ جیسا ہے، سمجھ لیجئے کہ سارا پانی ویسا ہی ہوگا۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ ہر انسان گویا پانی کا ایک ذخیرہ ہے۔ اس ذخیرہ سے بار بار اس کی بوندیں ٹپکتی رہتی ہیں۔ ان ظاہر ہونے والی بوندوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اندر کا انسان کیسا ہوگا۔ کسی آدمی سے آپ بات کریں اور بات چیت کے دوران اس کی زبان سے ایک ہلکی بات نکل جائے، کسی آدمی سے آپ معاملہ کریں اور معاملہ میں وہ کوئی کمزوری دکھائے، کسی آدمی کے ساتھ آپ کا سفر پیش آئے اور سفر میں اس کی طرف سے کوئی برا سلوک ظاہر ہو تو یہ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ وہ آدمی اچھا آدمی نہیں۔ آدمی ایک مکمل مجموعہ ہے۔ جیسے برتن کا پانی ایک مکمل مجموعہ ہوتا ہے۔ کسی آدمی سے ایک کمزوری ظاہر ہو تو وہ اس کی شخصیت کا انفرادی یا استثنائی واقعہ نہ ہوگا بلکہ وہ اس کی پوری شخصیت کا اظہار ہوگا۔ وہ ایک عکس ہوگا جس میں اس کی پوری شخصیت جھلک رہی ہوگی۔ کوئی آدمی کسی معاملہ میں کمزور ثابت ہو تو سمجھ لیجئے کہ وہ ہر معاملہ میں کمزور ہے۔ آدمی ایک معاملہ میں ناقابل اعتماد ثابت ہونے کے بعد ہر معاملے میں اپنے آپ کو ناقابل اعتماد ثابت کر دیتا ہے۔ اس کلیہ میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ اس انسان کا ہے جو اپنا محاسبہ کرتا ہو۔ جس کے اندر احتساب کی صلاحیت زندہ ہو۔ جو بار بار اپنے اندر جھانک کر دیکھتا ہو کہ اس نے کیا صحیح کیا اور کیا غلط کیا۔ اس کی زبان کس موقع پر انصاف کی بات بولی اور کس موقع پر وہ انصاف سے ہٹ گئی۔ ایک شخص تجربہ میں غلط ثابت ہو۔ اس کے بعد اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو، اور وہ آپ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page