Urdu book · راز حیات

قدرت کی مثال

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

قدرت کی مثال شکاریات کے ایک ماہر نے لکھا ہے (ٹائمز آف انڈیا 21 مئی 1984) کہ شیر اکثر اس وقت مردم خور بن جاتے ہیں جب کہ وہ اتنے بوڑھے ہو جائیں کہ وحشی جانوروں کو نہ پکڑ سکیں۔ مگر دس میں سے 9 مردم خور شیر وہ ہیں جن کو غلط شکاری زخمی کر دیتے ہیں: شیر اپنی فطرت کے اعتبار سے مردم خور نہیں۔ مگر وہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ "دشمن خور" ہے۔ شیر جس کو اپنا دشمن سمجھ لے اس کو وہ کسی حال میں نہیں بخشا۔ عام حالات میں شیر کسی انسان کو دیکھتا ہے تو وہ کترا کر نکل جاتا ہے۔ لیکن ایسے شکاری جن کے پاس اچھے ہتھیار نہ ہوں اور اناڑی پن کے ساتھ شیر پر فائر کریں۔ وہ اکثر اس کو مار نہیں پاتے بلکہ زخمی کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وہ شیر ہیں جو مردم خور بن جاتے ہیں وہ "انسان" کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں اور جب بھی انسانی صورت میں کسی شخص کو دیکھ لیتے ہیں تو اس کو ختم کیے بغیر نہیں رہتے۔ یہ زندگی کا ایک قانون ہے۔ وہ جس طرح شیر اور انسان کے لیے درست ہے اسی طرح وہ انسان اور انسان کے لیے بھی درست ہے۔ ایک انسان کا معاملہ ہو یا ایک قوم کا معاملہ، دونوں حالتوں میں دنیا کا اصول یہی ہے۔ جس دشمن کو آپ ہلاک نہیں کر سکتے اس کو زخمی بھی نہ کیجئے کیوں کہ زخمی دشمن آپ کے لیے پہلے سے بھی زیادہ بڑا دشمن ہوتا ہے۔ ایک شخص آپ کا دشمن ہو اور آپ کافی تیاری کے بغیر اس پر وار کریں تو یہ اپنی قبر خود اپنے ہاتھ سے کھودنا ہے۔ اس قسم کے اقدام کے پیچھے بے صبری کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ وہ سوچ سمجھ کر منصوبہ بنائیں اور خاموش جدوجہد کے ذریعہ اپنے آپ کو مضبوط اقدام کے قابل بنائیں وہی وہ لوگ ہیں جو دشمن پر سطحی وار کر کے دشمن کو اور زیادہ اپنا دشمن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page