راز حیات
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
بنا لیتے ہیں اور بعد کو شکایت اور احتجاج کا دفتر کھول دیتے ہیں۔ حالانکہ اس دنیا میں نہ جھوٹے اقدام کی کوئی قیمت ہے اور نہ جھوٹی شکایتوں کی ۔ زندگی کی قوت گھر کے آنگن میں ایک بیل اگی ہوئی تھی۔ مکان کی مرمت ہوئی تو وہ ملبہ کے نیچے دب گئی۔ آنگن کی صفائی کراتے ہوئے مالک مکان نے بیل کو کٹوا دیا۔ دور تک کھود کر اس کی جڑیں بھی نکلوادی گئیں اس کے بعد پورے صحن میں اینٹ بچھا کر اس کو سیمنٹ سے پختہ کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد بیل کی سابق جگہ کے پاس ایک نیا واقعہ ہوا۔ پختہ اینٹیں ایک مقام پر ابھر آئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے دھکا دے کر انہیں اٹھا دیا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ چوہوں کی کارروائی ہے کسی نے کوئی اور قیاس قائم کرنے کی کوشش کی۔ آخر کار اینٹیں ہٹائی گئیں تو معلوم ہوا کہ بیل کا پودا اس کے نیچے مڑی ہوئی شکل میں موجود ہے۔ بیل کی کچھ جڑیں نیچے رہ گئی تھیں۔ وہ بڑھ کر اینٹ تک پہنچیں اور اب اوپر آنے کے لیے زور کر رہی تھیں۔ "یہ پتیاں اور انکھوے جن کو ہاتھ سے مسلا جائے تو وہ آٹے کی طرح پس اٹھیں۔ ان کے اندر اتنی طاقت ہے کہ اینٹ کے فرش کو توڑ کر اوپر آ جائیں۔" مالک مکان نے کہا " میں ان کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتا۔ اگر یہ بیل مجھ سے دوبارہ زندگی کا حق مانگ رہی ہے تو میں اس کو زندگی کا حق دوں گا"۔ چنانچہ انہوں نے چند اینٹیں نکلوا کر اس کے لیے جگہ بنا دی۔ ایک سال بعد ٹھیک اسی مقام پر تقریبا پندرہ فٹ اونچی بیل کھڑی ہوئی تھی جہاں اس کو ختم کر کے اس کے اوپر پختہ اینٹیں جوڑ دی گئی تھیں۔ پہاڑ اپنی ساری وسعت اور عظمت کے باوجود یہ طاقت نہیں رکھتا کہ کسی پتھر کے ٹکڑے کو ادھر سے ادھر کھسکا دے۔ مگر درخت کے ننھے پودے میں اتنا زور ہے کہ وہ پتھر کے فرش کو دھکیل کر باہر آجاتا ہے۔ یہ طاقت اس کے اندر کہاں سے آئی۔ اس کا سر چشمہ عالم فطرت کا وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader