Urdu book · راز حیات

پیغام حیات

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو دنیا میں جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور آزمائش ہے ، نہ کہ بطور استحقاق ۔ آدمی کو چاہیے کہ اس کو وہ اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اس کو خدا کی چیز سمجھے۔ یہ چیزیں صرف اس وقت تک آدمی کے قبضہ میں ہیں جب تک اس کی مدت امتحان پوری نہ ہو ۔ مدت پوری ہوتے ہی سب کچھ اس سے چھین لیا جائے گا ۔ اس کے بعد آدمی کے پاس جو کچھ بچے گا وہ صرف اس کے اپنے اعمال ہوں گے ، نہ کہ وہ ساز و سامان جن کے درمیان آج وہ اپنے آپ کو پاتا ہے ۔ دنیا کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جس طرح ایک شخص کو آزادی حاصل ہے اسی طرح یہاں دوسرے شخص کو بھی پوری آزادی حاصل ہے ۔ اس صورت حال کی وجہ سے یہ دنیا اس چیز کا ایک میدان بن گئی ہے جس کو مقابلہ (competitioin) کہا جاتا ہے ۔ یہاں ہر آدمی آزاد ہے ، اس لیے یہاں ہر ایک شخص اور دوسرے شخص یا ہر ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کھلا مقابلہ جاری ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر کامیابی دوسروں کے بالمقابل اپنے آپ کو کامیاب بنانے کا نام ہے ۔ یہاں وہی شخص جیتیتا ہے جو زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے بازی لے جائے ۔ یہاں اسی شخص کو ملتا ہے جو دوسروں سے آگے بڑھ کر لے لینے کا حوصلہ کر سکے ۔ جن لوگوں کے پاس غیر اللہ کے سہارے ہوں وہ آخرت کی دنیا میں اپنے آپ کو بے قیمت پائیں گے ۔ اسی طرح جو لوگ صرف تعصب اور امتیاز کی اصطلاحوں میں سوچنا جانتے ہوں وہ موجودہ دنیا میں بے جگہ ہو کر رہ جائیں گے ، وہ مقابلہ کی اس دنیا میں اپنے لیے کوئی حقیقی مقام حاصل نہیں کر سکتے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page