Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 333

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسروں سے لینے کے لیے دوسرے کو دینا پڑتا ہے۔ جو لوگ دیے بغیر یک طرفہ طور پر دوسروں سے لینا چاہتے ہوں، ان کے لیے موجودہ دنیا میں کچھ بھی پانا مقدر نہیں۔ تخلیقی اقلیت آرنلڈ ٹائن بی (1983-1852) ایک انگریز مورخ ہے۔ 1954 میں اس نے اپنی مشہور کتاب تاریخ کا مطالعہ (A Study of History) چھاپی۔ یہ کتاب بارہ جلدوں میں ہے اور اس میں 21 تہذیبوں کا فلسفیانہ مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں ٹائن بی نے دکھایا ہے کہ کسی قوم کا ابھرنا اس پر منحصر نہیں ہوتا کہ وہ کسی اعلیٰ نسل سے ہے یا زیادہ بہتر جغرافی حالات اسے حاصل ہو گئے ہیں۔ بلکہ اس کا انحصار کسی قوم کی اس صلاحیت پر ہے کہ پیش آمدہ چیلنج کا جواب وہ کس طرح دیتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ وہ قومیں ابھرتی ہیں جو خصوصی مشکلات پیدا ہونے کے وقت خصوصی جدوجہد کر سکیں۔ تہذیبوں کے ابھرنے کے بارے میں ٹائن بی کی توجیہات اس نظریہ پر قائم ہیں کہ جو چیز لوگوں کو تہذیبی کامیابی حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے وہ مشکل حالات ہیں نہ کہ آسان حالات: The rise of a civilization was not the result of such factors as superior racial qualities or geographical environment but rather as a people's response to a challenge in a situation of special difficulty that rouses them to make an unprecedented effort. Difficult rather than easy conditions prompted men to cultural achievement (4/659) ٹائن بی کا کہنا ہے کہ تہذیب ہمیشہ کوئی تخلیقی اقلیت (Creative Minority) پیدا کرتی ہے۔ یہ دراصل چیلنج کا جواب دینے کا عمل (Challenge-response mechanism) ہے جو کسی قوم کو ابھارتا ہے اور اس کو دنیا کا امام بناتا ہے۔ بالفاظ دیگر اس دنیا میں محروم ہونا کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page