راز حیات
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
ناپسندیدہ بات نہیں۔ کیوں کہ محرومی آدمی کے اندر پانے کا جذبہ ابھارتی ہے اور اس طرح اُس کو زیادہ باعمل بنا کر اس کے لیے زیادہ بڑی کامیابی کا امکان پیدا کر دیتی ہے۔ مشکل حالات میں گھری ہوئی ایک قوم اگر رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو تو وہ اپنے حالات سے صرف فریاد و احتجاج کی غذا لے گی۔ اور اگر وہ حالات سے اوپر اٹھ کر مثبت طور پر سوچے تو اس کو نظر آئے گا کہ اس کے مشکل حالات اس کو کوئی شاندار تر کامیابی کا زینہ فراہم کر رہے ہیں۔ معلومات نہیں ذہنی رجحان نوبل انعام کا حصول، سائنس کی دنیا میں، اعلیٰ ترین کارکردگی کا ایک مسلمہ معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ انعام کسی کو کیسے حاصل ہوتا ہے۔ کیمسٹری کے نوبل انعام یافتہ ایچ۔ اے ۔ کر بیز (H. A. Krebs) نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سائنس دان بننے کے لیے اعلیٰ سازو سامان والی لیبارٹریوں اور جدید ترین لٹریچر پر مشتمل لائبریریوں سے بھی کہیں زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ کچھ مدت کے لیے کسی بڑی سائنسی شخصیت کی صحبت و رفاقت میسر آ جائے۔ ”اگر مجھے اپنی جوانی کے ابتدائی چار سال، وہ لکھتا ہے ”آٹو وار برگ (Otto Warburg) جیسے سائنس دان کی رفاقت میسر نہ آتی تو میرے اندر سائنس کا صحیح ذوق پیدا ہونا محال تھا۔“ کر بیز مختلف بڑے سائنس دانوں کے اقوال پیش کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ اعلیٰ سائنس دانوں کی صحبت جو سب سے بڑی چیز کسی کو دیتی ہے وہ سائنسی حقائق اور سائنسی طریقوں کے بارے میں معلومات کا انبار نہیں ہے۔ یہ دونوں چیزیں تو ہر جگہ سے حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ جو بات حقیقی فرق پیدا کرتی ہے، وہ دراصل فیضان نظر ہے جسے استاد اپنے شاگرد کو منتقل کرتا ہے۔ یہی فیضان نظر، جس کو وہ عمومی سائنسی روح(General Scientific Spirit) کا نام دیتا ہے، کسی شخص کو سچا سکالر بناتا ہے۔ وہ لکھتا ہے : ”سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ایک عظیم استاد یا سائنس دان اپنے شاگرد کے ذہن میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader