Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 335

By Maulana Wahiduddin Khan

حقائق کے بارے میں معلومات سے کہیں زیادہ ایک ذہنی رویہ (Attitude) منتقل کرتا ہے۔ اس ذہنی رویہ میں دو باتیں بالخصوص بہت اہم ہیں۔ ایک عجز (Humility) دوسرا شوق (Enthusiasm) عجز اور شوق دو سب سے بڑے زینے ہیں جن سے گزر کر آدمی اونچی ترقی کی منزل تک پہنچتا ہے۔ شوق آدمی کو اکساتا ہے کہ وہ کہیں رک کے بغیر اپنا سفر جاری رکھے۔ شوق آدمی کے اندر تجسس کا جذبہ ابھارتا ہے جس کی وجہ سے وہ چیزوں کی حقیقت جاننے کی کرید میں رہتا ہے۔ تاہم جستجو کا شوق ہی کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ عجز بھی انتہائی طور پر ضروری ہے۔ عجز کا مطلب ہے اپنے آپ کو حقیقتِ اعلیٰ سے کم سمجھنا۔ ایسا آدمی غلطی معلوم ہوتے ہی فوراً اس کا اعتراف کر لیتا ہے۔ وہ کسی بات کو ماننے سے کبھی اس لیے نہیں رکتا کہ اس کی وجہ سے اس کا وقار کم ہو جائے گا۔ وہ حق کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، نہ کہ کسی اور چیز کو۔ ایک کے بعد دوسرا مسافر اسٹیشن پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کی ٹرین جا چکی ہے۔ اس کی گھڑی صحیح نہ تھی اس لیے وہ دس منٹ لیٹ ہو گیا۔ اتنی دیر میں ٹرین آ کر چلی گئی۔ "بابو جی، فکر نہ کیجے،" قلی نے کہا "دو گھنٹے بعد ایک اور گاڑی آ رہی ہے، اس سے آپ چلے جائیں۔ اتنی دیر پلیٹ فارم پر آرام کر لیجے"۔ مسافر نے قلی کا مشورہ مان لیا اور دو گھنٹہ انتظار کے بعد اگلی ٹرین پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ ہر مسافر جانتا ہے کہ ایک ٹرین چھوٹ جائے تو جلد بعد ہی دوسری ٹرین مل جاتی ہے جس سے وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ یہ پلیٹ فارم کا سبق ہے۔ مگر اکثر لوگ اس معلوم سبق کو اس وقت بھول جاتے ہیں جب کہ زندگی کی دوڑ میں ایک موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ پہلی بار ناکامی سے دو چار ہونے کے بعد وہ مایوس ہو جاتے ہیں یا احتجاج و فریاد کے مشغلہ میں لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لیے نیا منصوبہ بنائیں، وہ "اگلی ٹرین" سے چل کر اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page