راز حیات
Urdu book, p. 340
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے۔ وہ اس کی عزت پر حملہ کرتا ہے تا کہ اس کو بے عزت کر کے اپنی متکبرانہ نفسیات کو غذا فراہم کرے۔ وہ خود ساختہ طور پر طرح طرح کی باتیں نکال کر اس کو چھوٹا ظاہر کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے یہ اطمینان حاصل کر سکے کہ وہ بڑا ہے ہی نہیں۔ آدمی اگر حقیقت واقعہ کے اعتراف کے لیے تیار رہے تو تمام شکایتوں کی جڑ کٹ جائے۔ آدمی چوں کہ حقیقت کا اعتراف نہیں کرتا، اس لیے وہ اپنے آپ کو شکایت سے اوپر اٹھانے میں بھی کامیاب نہیں ہوتا۔ چوٹی کے لوگ امریکہ سے 1986 میں ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کتاب کا نام چوٹی کے عمل کرنے والے (Peak Performers) ہے۔ اس کتاب میں جدید امریکہ کے ان لوگوں کا مطالعہ کیا گیا ہے جنہوں نے زندگی کے میدان میں ہیرو روانہ کردار ادا کیا۔ اس سلسلہ میں مصنف نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ طاقتور مشن (powerful mission) وہ چیز ہے جو آدمی کے اندر کوشش (Superior effort) کا جذبہ ابھارتا ہے اور اس کو خصوصی کامیابی (Exceptional achievement) کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔ 1967 میں امریکہ نے پہلا انسان بردار راکٹ چاند پر بھیجا تھا۔ راکٹ کی روانگی سے پہلے جو ماہرین اس منصوبہ کی تکمیل میں مشغول تھے، ان میں سے ایک شخص کا بیان ہے جو اس ٹیم میں کمپیوٹر پروگرامر کے طور پر شامل تھا۔ اس نے دیکھا کہ عمل کے دوران کچھ غیر معمولی بات پیدا ہو گئی ۔ ہزاروں عورتیں اور مرد جو اس منصوبہ میں کام کر رہے تھے، وہ سب کے سب اچانک اعلیٰ انجام دینے والے (Super-achievers) بن گئے۔ وہ اتنا عمدہ کام کرنے لگے جو اس سے پہلے انھوں نے ساری عمر میں نہیں کیا تھا۔ 18 مہینے میں حیرت انگیز تیزی کے ساتھ کام مکمل ہو گیا۔ میں نے جاننا چاہا کہ ہم سب لوگ اتنا عمدہ کام کیوں کر رہے ہیں۔ میں نے منیجر کے سامنے یہ سوال رکھا تو اس نے مشرقی جانب چاند کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader