Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

کا یہ حال ہے کہ وہ جتنا لیتی ہے اس سے زیادہ وہ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ درخت کو لیجئے ۔ درخت زمین سے پانی اور معدنیات لیتا ہے۔ وہ ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ لیتا ہے۔ وہ سورج سے حرارت لیتا ہے اور اس طرح پوری کائنات سے اپنی غذا لیتے ہوئے اپنے وجود کو کمال کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔ مگر اس کے بعد وہ کیا کرتا ہے ۔ اس کے بعد اس کا پورا وجود دوسروں کے لیے وقف ہو جاتا ہے ۔ وہ دوسروں کو سایہ دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو لکڑی دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو پھول اور پھل دیتا ہے ۔ وہ ساری عمر اسی طرح اپنے آپ کو دوسروں کے لیے وقف رکھتا ہے ۔ یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہی حال کائنات کی ہر چیز کا ہے۔ ہر چیز دوسروں کو دینے اور دوسروں کو نفع پہنچانے میں مصروف ہے۔ سورج ، دریا ، پہاڑ ، ہوا ہر چیز دوسروں کو نفع پہنچانے میں لگی ہوئی ہے۔ کائنات کا دین نفع بخشی ہے ، نہ کہ حقوق طلبی ۔ اس دنیا میں صرف ایک ہی مخلوق ہے جو دینے کے بجائے لینا چاہتی ہے۔ اور وہ انسان ہے۔ انسان ایک طرفہ طور پر دوسروں کو لوٹتا ہے ، وہ دوسروں کو دیے بغیر دوسروں سے لینا چاہتا ہے۔ وہ نفع بخش بنے بغیر نفع خور بننا چاہتا ہے۔ انسان کی یہ روش خدا کی اسکیم کے خلاف ہے۔ وہ کائنات کے عام مزاج سے ہٹی ہوئی ہے۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے موجودہ دنیا میں کامیابی مقدر نہیں۔ موجودہ دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کو مل سکتی ہے جو وسیع تر کائنات سے اپنے کو ہم آہنگ کریں۔ جو دینے والی دنیا میں خود بھی دینے والے بن کر رہیں ، نہ کہ دینے والی دنیا میں صرف لینے والے۔ قدرت کا نظام اگر آپ اپنا کمرہ بند کر کے باہر چلے جائیں اور چند مہینہ کے بعد واپس آ کر اسے کھولیں تو ہر طرف اتنی گرد پڑی ہوئی ہوگی کہ جب تک آپ اسے صاف نہ کرلیں آپ اس کمرہ میں بیٹھنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page