راز حیات
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
جڑ نیچے کی طرف، پھل اوپر کی طرف۔ یہ خدائی اصول ہے۔ گلاب کا پھول رنگ اور خوشبو کا ایک معیاری مجموعہ ہے جو ایک تنے کے اوپر ظاہر ہوتا ہے۔ مگر اس کا معیار اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ پہلے ایک جڑ نیچے مٹی کے اندر گئی۔ وہ لوگ جو زمین میں کھیتی کرتے ہیں یا باغ لگاتے ہیں وہ اس اصول کو جانتے ہیں۔ مگر ہم کو پھل حاصل کرنے سے اتنی زیادہ دل چسپی ہے کہ ہم جڑ جمانے کی بات آسانی سے بھول جاتے ہیں۔ ہم حقیقۃ ترقی اور خوشحالی حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم مشترک زندگی میں اپنی جڑیں داخل نہ کریں۔ مکمل خوش حالی مشترک زندگی میں جڑیں قائم کیے بغیر ممکن نہیں۔ درخت زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔ مگر وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں جماتا ہے۔ وہ نیچے سے اوپر کی طرف بڑھتا ہے، نہ کہ اوپر سے نیچے کی طرف۔ درخت گویا قدرت کا معلم ہے جو انسان کو یہ سبق دے رہا ہے: اس دنیا میں داخلی استحکام کے بغیر خارجی ترقی ممکن نہیں۔ پانے سے پہلے انگریزی کا مقولہ ہے کہ ہم دیتے ہیں تب ہی ہم پاتے ہیں۔ In giving that we receive دنیا کے بنانے والے نے دنیا کا یہ قانون مقرر کیا ہے کہ یہاں جو دیتا ہے وہی پاتا ہے جس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو اس کے لیے پانا بھی اس دنیا میں مقدر نہیں۔ ہمارے چاروں طرف کی دنیا میں خدا نے اس اصول کو انتہائی کامل شکل میں قائم کر رکھا ہے یہاں ہر چیز کو اگر چہ اپنے وجود کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے کچھ لینا پڑتا ہے، مگر ہر چیز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader