Urdu book · راز حیات

قدرت کا قانون

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

قدرت کا قانون ہیری ایمرسن فاسڈک نے زندگی کی ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ کوئی بھاپ یا گیس اس وقت تک کسی چیز کو نہیں چلاتی جب تک کہ اس کو مقید نہ کیا جائے ۔ کوئی نیا گرا اس وقت تک روشنی اور طاقت میں تبدیل نہیں ہوتا جب تک اس کو سرنگ میں داخل نہ کیا جائے۔ کوئی زندگی اس وقت تک ترقی نہیں کرتی جب تک اس کو رخ پر نہ لگایا جائے اور اس کو وقف نہ کیا جائے اس کو منظم نہ کیا جائے : No steam or gas ever drives anything until it is confined. No niagara is ever turned into light and power until it is tunnelled. No life ever grows until it is focused, dedicated, disciplined. Harry Emerson Fosdick, Living Under Tension قدرت کا ایک ہی قانون ہے جو زندہ چیزوں میں بھی رائج ہے اور غیر زندہ چیزوں میں بھی۔ وہ یہ کہ ہر مطلوب چیز کو حاصل کرنے کی ایک قیمت ہے، جب تک وہ قیمت ادا نہ کی جائے مطلوب چیز حاصل نہیں ہوتی۔ یہاں ابھرنے کے لیے پہلے دبنا پڑتا ہے۔ یہاں ترقی کے درجہ تک پہنچنے کے لیے بے ترقی پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ یہاں دوسروں کے اوپر غلبہ حاصل کرنے کے لیے دوسروں سے مغلوبیت کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ ایک بات بظاہر سادہ سی ہے مگر انسان اپنی عملی زندگی میں اکثر اسے بھول جاتا ہے۔ وہ یہ کہ ہم اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہیں۔ جب صورت حال یہ ہے کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے تو ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم خدا کے بنائے ہوئے قوانین کو جانیں اور اس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کریں۔ اس کے سوا کسی اور تدبیر سے یہاں ہم اپنے لیے جگہ حاصل نہیں کر سکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page