راز حیات
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان پر یہ مراحل نہ گزریں اور اس کے بغیر وہ ترقی اور کامیابی کے مقام کو پالیں تو ان کو اپنی پسند کے مطابق دوسری دنیا بنانی پڑے گی۔ کیوں کہ خدا نے جو دنیا بنائی ہے اس میں تو ایسا ہونا ممکن نہیں۔ استحکام اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں ہر قسم کی عملی مثالیں قائم کر دی ہیں۔ مثلاً اس نے درختوں میں دو قسم کے درخت بنائے۔ ایک بیل، اور دوسرے بڑے بڑے پھل دار درخت۔ بیل مہینوں میں پھیلتی ہے اور پھر مہینوں ہی میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس درخت سالوں میں تیار ہوتا ہے۔ اور پھر سالوں اور بعض اوقات صدیوں تک زمین پر قائم رہتا ہے۔ اس طرح دو مختلف قسم کی مثالیں کھڑی کر کے خدا اپنی خاموش زبان میں یہ کہہ رہا ہے کہ ہم کیا طریقہ اختیار کریں اور کون سا طریقہ اختیار نہ کریں۔ کون سا کامیابی کا راستہ ہے اور کون سا نا کامی کا راستہ۔ قوم کی تعمیر کے معاملہ میں ہم کو چاہیے کہ ہم بیل کی طرح نہ پھیلیں بلکہ درخت کی طرح بڑھنے کی کوشش کریں۔ بیل کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ آناً فاناً بڑھتی ہے مگر چند ہی مہینوں میں سوکھ کر ختم ہو جاتی ہے۔ ابتدا میں چاہیے وہ ایک فرلانگ تک پھیلی ہوئی نظر آئے مگر آخر کار وہ قدموں کے نیچے بھی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے برعکس درخت کا یہ حال ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ سالہا سال کے انتظار کے بعد تیار ہوتا ہے مگر اس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ وہ جتنا اوپر دکھائی دیتا ہے اتنا ہی زمین کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ وہ سطح زمین سے گزر کر اس کی گہرائیوں سے اپنے لیے غذا حاصل کرتا ہے۔ کوئی درخت جب ایک بار تیار ہو جاتا ہے تو پھر وہ سو سال تک لوگوں کو اپنا پھل اور اپنا سایہ دیتا رہتا ہے۔ اس سے لوگوں کو صرف فائدہ ملتا ہے۔ کسی اعتبار سے بھی وہ لوگوں کے لیے نقصان کا سبب نہیں بنتا۔ وہ لوگوں کے لیے کسی قسم کا مسئلہ کھڑا نہیں کرتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader