بچاؤ کا انتظام
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
موجود تھے۔ مگر آج کوئی کتا ہماری طرف لپکا اور نہ کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ ہم سکون کے ساتھ اس مقام سے گزر گئے اور کتے ہماری طرف متوجہ ہونے کے بجائے اپنے مشغولوں میں لگے رہے۔ واپس ہوتے ہوئے ہم دوبارہ اس مقام سے گزرے۔ اب بھی کتے وہاں موجود تھے۔ مگر انہوں نے ہماری طرف کوئی توجہ نہ دی۔ ہم کسی مزاحمت کے بغیر اپنی منزل پر واپس آگئے۔ ”یہ لاٹھی کی برکت تھی“ مفتی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ” کل آپ لاٹھی کے بغیر تھے تو کتوں کو ہمت ہوئی وہ بھونکتے ہوئے آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آج ہمارے ساتھ لمبی لاٹھی تھی تو کتے اس کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ ہم بے زور نہیں ہیں بلکہ ان کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس مضبوط ہتھیار موجود ہے۔ اس چیز نے کتوں کو ہمارے اوپر اقدام کرنے سے بے ہمت کر دیا۔ ”کتا ہمیشہ اس وقت آپ کی طرف دوڑے گا جب وہ آپ کو کمزور محسوس کرے۔ اگر وہ دیکھے کہ آپ کے پاس طاقت ہے تو وہ آپ کی طرف رخ نہیں کرے گا۔“ انسانوں میں بھی کچھ لوگ اسی قسم کے مزاج والے ہوتے ہیں۔ وہ اس شخص سے ٹھیک رہتے ہیں جو اپنے ہاتھ میں ”ایک لاٹھی“ لیے ہوئے ہو۔ ایسے شخص سے سامنا ہو تو وہ کترا کر الگ ہو جاتے ہیں۔ البتہ جب وہ کسی کو دیکھتے ہیں کہ وہ لاٹھی کے بغیر ہے تو اس کے لیے وہ شیر ہو جاتے ہیں۔ وہ طاقت ور کے لیے بزدل ہوتے ہیں اور کمزور کے لیے بہادر۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ آدمی سماج کے ایسے افراد کے لیے ”لاٹھی“ کا انتظام بھی رکھے۔ اصولی اور عمومی طور پر وہ پرامن ہو۔ وہ لوگوں کے ساتھ تواضع اور نرمی کا رویہ اختیار کرے۔ مگر اسی کے ساتھ کم از کم دکھانے کی حد تک وہ اپنے آس پاس ”لاٹھی“ بھی کھڑی رکھے تا کہ اس قسم کے لوگوں کو اس کے اوپر حملہ کی جرات نہ ہو سکے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے قدرت ایک شاخ پر نرم و نازک پھول کھلاتی ہے تو اسی کے ساتھ وہ شاخ کے چاروں طرف کانٹے بھی اگادیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader