راز حیات
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
آتے ہیں۔ یہاں دوبارہ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر سکے۔ وہ اپنی ناکامیوں کے اندر سے کامیابی کا راستہ نکال لے۔ یہی دنیا کا قانون ہے۔ انسان کے لیے بھی اور غیر انسان کے لیے بھی۔ جو کوئی اس خاص صلاحیت کو ثبوت دے، وہی اس دنیا میں کامیاب ہے، اور جو اس صلاحیت کا ثبوت دینے میں ناکام رہے وہ خدا کی اس دنیا میں اپنے آپ کو ناکامی سے بھی نہیں بچا سکتا۔ خدا کی گائے گویا خدا کی مرضی کا اعلان ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں خدا کو ہم سے کیا مطلوب ہے۔ خدا کو ہم سے یہ مطلوب ہے کہ ہمارے اندر ”گھاس“ داخل ہو اور وہ ”دودھ“ بن کر باہر نکلے۔ لوگ ہمارے ساتھ برائی کریں تب بھی ہم ان کے ساتھ بھلائی کریں۔ ہمارے ساتھ ناموافق حالات پیش آئیں تب بھی ہم ان کو موافق حالات میں تبدیل کر سکیں۔ بچاؤ کا انتظام الور میں ایک مدرسہ ہے جو شہر کے کنارے واقع ہے۔ مدرسہ کے ایک طرف شہر کی عمارتیں ہیں اور دوسری طرف کھیت شروع ہوجاتے ہیں۔ ایک بار مجھ کو اس مدرسہ میں چند دن گزارنے کا اتفاق ہوا۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد میں مدرسہ سے نکلا اور کھیتوں کی طرف ٹہلنے چلا گیا۔ کچھ دور آگے بڑھا تو ایک جگہ بہت سے کتے نظر پڑے۔ وہ مجھ کو دیکھ کر زور زور سے بھونکنے لگے اور میری طرف لپکے۔ مجھ کو پتھر پھینک کر انہیں بھگانا پڑا۔ مغرب کے قریب میں ٹہل کر واپس ہوا تو میں نے مدرسہ کے ناظم مولانا مفتی جمال الدین قاسمی سے اس کا ذکر کیا۔ وہ مسکرائے انہوں نے کہا کل ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔ پھر آپ دیکھئے گا کہ کوئی کتا نہیں بھونکے گا۔ اگلے دن عصر کی نماز کے بعد جب میں ٹہلنے کے لیے نکلا تو مفتی صاحب بھی میرے ساتھ ہوگئے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ میں ایک لمبی لاٹھی لے لی جو دور سے دکھائی دیتی تھی۔ ہم لوگ چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں پچھلے روز مجھے کتوں کا غول ملا تھا، میں نے دیکھا تو اب بھی کتے وہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader