Urdu book · راز حیات

بدعنوانی

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

بدعنوانی بمبئی میں ایک کئی منزلہ عمارت بنائی گئی۔ اس کا نام ”آکاش دیپ“ رکھا گیا۔ مگر جب وہ بن کر تیار ہوئی تو اچانک گرپڑی۔ بتایا جاتا ہے کہ گرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی تعمیر میں سیمنٹ کا جزء، مقررہ مقدار سے کم استعمال کیا گیا تھا۔ ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے اس سلسلے میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا: RCC construction is a scientific process which is excellent in the hands of qualified and experienced people, but dangerous if managed by incompetent engineers and contractors. آرسی سی تعمیر ایک سائنسی طریقہ ہے جو بہت عمدہ ہے جب کہ وہ لائق اور تجربہ کار لوگوں کے ہاتھ میں ہو مگر وہ اس وقت خطرناک ہو جاتا ہے جب اس کو استعمال کرنے والے نااہل انجینئر اور ٹھیکہ دار ہوں (ٹائمز آف انڈیا، 4 ستمبر 1983) بظاہر یہ ایک صحیح اور خوب صورت بات معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر ایک مغالطہ چھپا ہوا ہے۔ یہ مغالطہ اس وقت کھل جاتا ہے جب کہ ہم نااہل (Incompetent) کی جگہ بدعنوان (Corrupt) کا لفظ رکھ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس قسم کے مسائل لوگوں کی حرص اور بدعنوانی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ فنی عدم مہارت کی وجہ سے۔ بھا کڑا ڈیم ہندوستان کا اعلیٰ ترین سرکاری منصوبہ تھا۔ اس کی تعمیر میں ملک کے بہترین انجینئر لگائے گئے ۔ مگر جب وہ بن کر تیار ہوا تو اس کی دیوار میں شگاف ہو گیا جس کی تعمیر میں دوبارہ کروڑوں روپیہ لگانا پڑا۔ اس قسم کے واقعات ہر روز ہمارے ملک میں ہو رہے ہیں۔ یہ سب کام ہمیشہ فنی ماہرین کی نگرانی میں انجام پاتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حال ہے کہ سڑکیں بننے کے بعد جلد ہی خراب ہو جاتی ہیں۔ عمارتیں تیار ہونے کے ساتھ ہی قابلِ مرمت ہو جاتی ہیں۔ منصوبے تکمیل کو پہنچ کر غیر مکمل نظر آنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے تمام واقعات کی وجہ بدعنوانی ہے، نہ کہ فنی مہارت کی کمی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page