راز حیات
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
بدعنوانی ایک نفسیاتی خرابی ہے اور فنی مہارت میں کمی ایک ٹیکنیکل خرابی۔ نفسیاتی خرابی کو ٹیکنیکل اصلاح کے ذریعہ دور نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں واقعی ایک بہتر سماج بنے تو افراد قوم کی نفسیاتی اصلاح کرنی ہوگی۔ صرف ٹیکنیکل کورس میں اضافے سے یہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ قومی کردار 1965 کا واقعہ ہے۔ ہندوستان کے ایک صنعت کار مغربی جرمنی گئے۔ وہاں ان کو ایک کارخانہ میں جانے کا موقع ملا۔ وہ ادھر ادھر گھوم کر کارخانہ کی کارکردگی دیکھتے رہے۔ اس درمیان میں وہ ایک کاریگر کے پاس کھڑے ہوگئے اور اس سے کچھ سوالات کرنے لگے۔ بار بار خطاب کرنے کے باوجود کاریگر نے کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ بدستور اپنے کام میں لگا رہا۔ کچھ دیر کے بعد کھانے کے وقفہ کی گھنٹی بجی۔ اب کاریگر اپنی مشینوں سے اٹھ کر کھانے کے ہال کی طرف جانے لگے۔ اس وقت مذکورہ کاریگر ہندوستانی صنعت کار کے پاس آیا۔ اس نے صنعت کار سے ہاتھ ملایا اور اس کے بعد تعجب کے ساتھ کہا: کیا آپ اپنے ملک کے کاریگروں سے کام کے وقت بھی باتیں کرتے ہیں۔ اگر اس وقت میں آپ کی باتوں کا جواب دیتا تو کام کے چند منٹ ضائع ہوجاتے اور کمپنی کا نقصان ہو جاتا۔ جس کا مطلب پوری قوم کا نقصان تھا۔ ہم یہاں اپنے ملک کو فائدہ پہنچانے آتے ہیں، ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں آتے۔ یہی وہ کردار ہے جو مغربی قوموں کی ترقی کا راز ہے۔ 1945 میں اتحادی طاقتوں (الائڈ پاورز) نے جرمنی کو بالکل تباہ کر دیا تھا۔ مگر صرف 25 سال بعد جرمنی دوبارہ پہلے سے زیادہ طاقت ور بن چکا ہے اور اس کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کا ہر فرد اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کو بخوبی طور پر انجام دے۔ وہ اپنی ذات کو اپنی قوم کے تابع سمجھتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ذات کی تکمیل میں لگا ہوا ہے۔ مگر قومی مفاد کی قیمت پر نہیں بلکہ ذاتی جدوجہد کی قیمت پر۔ جہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader